انوارالعلوم (جلد 1) — Page 34
انوار العلوم جلد 1 امله محبت اسی کلام کیا۔ کیا وہ اپنے بندوں سے ڈرتا ہے یا کوئی اور بھید ہے جس کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ مگر پہلی بات زیادہ زبردست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے یہودیوں کی مار کھا کر ایک تجربہ حاصل کر لیا تھا اور خیال کیا تھا کہ اگر میں کفارہ کا باطل مسئلہ ان کے سامنے پیش نہ کروں گا تو معلوم نہیں مجھ سے کیا سلوک کریں گے ۔ اب ہم اتنا تو ثابت ثابت ک کر چکے ہیں ہیں کہ کہ کفارہ کفار کا مسئلہ انسانی عقل سے بعید ہے اور یہ کہ کہ عیسائیوں کا خدا دور خا کلام کرتا ہے پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے خدا سے محبت کریں اور ہر لحظہ اور ہر گھڑی اپنے دل میں اس کا تصور جمائے رکھیں ۔ اب ہم دیکھتے ہیں تو عیسائیوں کا خدا جو وعدہ کرتا ہے اس کو پورا بھی نہیں کرتا۔ اس نے کہا ہے کہ گناہ کی سزا جسم پر پڑتی ہے اور روح پر بھی۔ اور یہی اکثر عیسائیوں کا عقیدہ ہے جیسا کہ پیدائش باب ۳ آیت ۱۶ میں ہے کہ ”میں تیرے حمل میں تیرے درد کو بہت بڑھاؤں گا تو درد کے ساتھ بچے جنے گی“ اسی طرح آیت ۱۹۱۸ میں ہے وہ (زمین) تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اگاوے گی اور تو کھیت کی نبات کھائے گا۔ تو اپنے منہ کے پسینہ کی روٹی کھائے گا اور یہ وہ سزا ہے جو کہ آدم علیہ السلام و حوا کو بسبب ایک گناہ کے خدا تعالیٰ نے دی ہے مگر جبکہ کوئی مسیح کے کفارہ پر ایمان لائے تو چاہئے کہ وہ اس تکلیف سے بچ جائے۔ کیونکہ مسیح کے کفارہ پر ایمان لانے سے اس کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کئے گئے اور اب اس کا حق ہے کہ اگر وہ عورت ہے تو دروزہ سے بچہ نہ بنے اور اگر مرد ہے تو اس کو محنت مزدوری نہ کرنی پڑے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں ہر سال بیسیوں عورتیں بچہ جننے کی تکلیف سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔ کیا خدا کو اپنا وعدہ بھول گیا ؟ یا وہ آرام میں ہے اور قصوں کے دیووں کی طرح جو کہ ایک در از زمانہ تک ایک ہی کروٹ پر سوتے رہتے ہیں وہ بھی سو رہا ہے۔ بہر حال کچھ بھی ہوا سے خبردار کرنا چاہیئے اور تمام عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ مل کر اس کی خدمت میں ایک ڈیپوٹیشن پیش کریں تاکہ اس روز مرہ کی تکلیف سے بچ جائیں۔ اور ایسا ہو کہ پھر عورتیں بلا در دو کے بچہ جنہیں اور مرد بلا محنت کے روزی حاصل کریں تب بیشک عیسائیوں کا فرض ہو گا کہ وہ دنیا کے سامنے اس مذہب کو پیش کریں۔ اور گو کہ تثلیث لوگوں کی سمجھ میں نہ آوے مگر ان کا یہ کہنے کا حق ہو جائے گا کہ وہ جو ہم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا کیا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وعدہ کرنے والا بھی موجود ہے ۔ مگر جبکہ ان کا خدا وعدہ کر کے بھول جاتا ہے تو ہم اس سے نجات کی کس طرح امید رکھ سکتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے عیسائیوں سے تین وعدے کئے ہیں مگر اب تک ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا اس نے بارہ حواریوں سے بارہ تخت کا وعدہ کیا۔ یہاں تک کہ لو قاباب ۲۲ آیت