انوارالعلوم (جلد 1) — Page 600
کرتے۔جب تک اس کا انتقام لے کر اللہ تعالیٰ کےجلال کو ظاہر نہ فرمالیتے اور شریر انسان کو جو ہتک ِحرمۃ اللہ کا مرتکب ہواہو سزا نہ دے لیتے۔اس واقعہ سے صاف ظا ہر ہو جا تا ہے کہ آپؐ کا تحمل اس درجہ تک پہنچاہوا تھا کہ آپؐ کبھی بھی اپنے نفس کے لیے جوش کا اظہار نہ فر ما تے بلکہ تحمل اور بردبا ری سے ہی ہمیشہ کا م لیتے۔لیکن یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ یہ بات قطعاً درست نہیں کہ آپؐ میں جوش وانتقام کی صفت پا ئی ہی نہ جا تی تھی اور آپؐ پیدا ئش سے ہی ایسے نرم مزاج واقع ہو ئےتھے کہ غضب آپؐ میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی مقرر کر دہ حرمتوں کی ہتک اور بے حرمتی کا سوال پیدا ہو تا تو آپؐ ضرور انتقام لیتے تھے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ کا تحمل کسی پیدائشی کمزوری یا نقص کا نتیجہ نہ تھا بلکہ آپؐ اپنے اخلاق کی وجہ سے اپنے نفس کے قصور واروں سے چشم پو شی کر جا تے تھے۔اور اظہار ناراضگی سے اجتناب کرتے تھے۔اور جو کچھ کہنا بھی ہو تا تھا تو نہایت آہستگی اور نرمی سے کہتے تھے اور ایسا جواب دیتے تھے جس میں بجا ئے ناراضگی اور غضب کے اظہار کے اس شخص کے لیےکو ئی مفید سبق ہو جس سے وہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنے چال چلن کی اصلاح کر سکے۔اور یہی تحمّل کا اعلیٰ نمونہ ہے۔یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ حضرت عائشہ ؓ کی یہ شہادت بلا دلیل نہیں ہے بلکہ واقعات بھی اس کی شہادت دیتےہیںچنانچہ بخا ری کی ایک حدیث سے ظاہر ہے جسے مفصّل ہم پہلے کسی اَور جگہ لکھ آئے ہیں کہ جنگِ احد میں جب عام طور پر یہ خبر مشہور ہو گئی کہ آنحضرت ﷺ شہید ہو گئے ہیں اور کفار مکہ علی الاعلان اپنی اس کامیابی پر فخر کر نےلگے اور ان کے سردار نے بڑے زور سے پکار کرکہا کہ کیا تم میں محمد (ﷺ) ہے جس سے اس کی مرادیہ بتا نا تھا کہ ہم آپؐ کومار چکے ہیں اور آپؐ دنیا سے رحلت فر ما گئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ نے اپنے اصحاب کو فر مایا کوئی جواب نہ دیں۔اور اس طرح اس کاجھوٹا فخر پورا ہونے دیا۔اور یہ نہیں کہا کہ غضب میں آکر اسے کہتے کہ میں تو زندہ موجود ہوں یہ بات کہ تم نےمجھے قتل کر دیا ہے بالکل جھوٹ اور باطل ہے اور اس میں کو ئی صداقت نہیں۔ہاں جب ابو سفیان نے یہ کہا کہ اُعْلُ ھُبَلْ اُعْلُ ھُبَلْ۔ھُبل بت کی شا ن بلند ہو۔ھُبل بت کی شان بلند ہو تو اس وقت آپؐ خاموش نہ رہ سکے اور صحا بہ ؓکو فرمایا کہ کیوں جواب نہیں دیتے۔انہوں نے عرض کیا یارسولؐ اللہ !کیا جواب دیں؟فر ما یا اسے کہو کہ اَللّٰہُ اَعْلیٰ وَاَجَلُّ !اللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجْلُّ یعنی تمہارے ھُبل میں کیا طاقت ہے وہ تو ایک بناوٹی چیز ہے اللہ ہی ہے جو سب چیزوں سے بلند