انوارالعلوم (جلد 1) — Page 599
انوار العلوم جلدا ۵۹۹ سيرة النبي الله کرے کہ کیوں ہم آپ کو ایک خاص گروہ میں شامل کرتے ہیں اور دو سرے سے نکا۔ نکالتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا بھی جواب دیں کیونکہ اس سوال کا جواب دیئے بغیر آنحضرت کی سیرت کا کا ایک پہلو نا مکمل رہ جاتا ہے۔ اور آپ جیسے مکمل انسان کی زندگی کا کوئی پہلو نہیں جو نا مکمل ہو پس اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی پیش کرتے ہیں جو آپ کی ازدواج مطہرات سے تھیں۔ اور آپ کے اخلاق کی کما حقہ کما حقہ واقف تھیں۔ صحیح بخاری میں آپ سے روایت ہے کہ مَا خَيْرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَ هُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللَّهِ فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ بِهَا ( بخاری کتاب المناقب باب صفة النبي صلى الله عليه وسلم، یعنی آنحضرت ا کو جب کبھی دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تھا تو آپ دونوں میں سے آسان کو اختیار کر لیتے تھے جب تک کہ گناہ نہ ہو ۔ اور جب کوئی گناہ کا کام ہو تا تو آپ اس سے سب ! ے سب لوگوں سے زیادہ دور بھاگتے ۔ اور آ رکھا گئے۔ اور آپ کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ - تھے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں میں سے کسی کی بے حرمتی کی جاتی تھی تو آپ خدا کے لئے اس بے حرمتی کا بدلہ لیتے تھے ۔ لیتے اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جب آنحضرت ا کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دو کاموں کا اختیار دیا جاتا کہ آپ جو چاہیں کریں تو آپ ان دونوں میں سے آسمان کو اختیار کرتے (کیونکہ بندہ کا یہی حق ہے کہ اپنے آپ کو ہمیشہ آپ کو ہمیشہ زائدہ بوجھوں سے بچائے وں سے بچائے تا ایسا نہ ہو کہ اپنے آپ کو کسی آپ کو کسی مصیبت میں گرفتار کر دے) لیکن اگر کبھی آپ دیکھتے کہ ایک آسان بات کو اختیار کر کے کسی وجہ سے کسی گناہ کا قرب ہو جائے گا۔ تو پھر آپ کبھی اس آسان کو اختیار نہ کرتے بلکہ مشکل سے مشکل امر کو اختیار کر لیتے مگر اس آسان کے قریب نہ جاتے (اور یہی اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا کام ہے کہ وہ گناہ سے بہت دور بھاگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے میں کسی سختی یا کسی مشکل کے برداشت کرنے سے نہیں گھبراتے) پھر فرماتی ہیں کہ آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ اپنے نفس کے لئے کبھی انتقام نہ لیتے یعنی خلاف منشا امور کو دیکھ کر جب تک وہ خاص آپ کی ذات کے متعلق ہوتے تحمل سے ہی کام لیتے ۔ خفگی ناراضگی یا غضب کا اظہار نہ فرماتے نہ سزا دینے کی طرف متوجہ ہو جاتے ۔ ہاں جب آپ کی ذات کے متعلق کوئی امر نہ ہو بلکہ اس کا اثر دین پر پڑتا ہو اور کسی دینی مسئلہ کی ہتک ہوتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان پر کوئی دھبہ لگتا ہو۔ تو آپ اس وقت تک صبر نہ