انوارالعلوم (جلد 1) — Page 597
انوار العلوم جلدا ۵۹۷ سيرة النبي الله بھی اپنے ہم مذہبوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیئے گئے ہیں ایسے بادشاہ بھی گزرے ہیں جو بادشاہت کے علاوہ مذاہب کے بانی اور پیشوا بھی ہوئے ہیں اور خاص سلسلوں کے جاری کرنے والے ہیں جن کے مرنے کے ساتھ ان کی بادشاہت کا تو خاتمہ ہو گیا لیکن ان کی روحانی بادشاہت مدت ہائے دراز تک قائم رہی بلکہ اب تک بھی مختلف حکومتوں کے ماتحت رہنے والے لوگ در حقیقت اپنے دل اور اپنی روح کے لحاظ سے انہیں کے ماتحت ہیں جو نیکی اور تقویٰ میں بے نظیر خیال کئے جاتے ہیں جو اخلاق میں آنے والی نسلوں کے لئے ایک نمونہ خیال کئے جاتے ہیں مگر کوئی ہے جو تمام دنیا کی تاریخوں کی ورق گردانی کرنے کے بعد تمام اقوام کے بادشاہوں اور پیشواؤں کے حالات کی چھان بین کرنے کے بعد ان اخلاق کا انسان دکھا سکے اور اس تحمل کی نظیر کسی اور انسان میں بتا سکے جو آنحضرت ا نے دکھایا میں یہ نہیں کہتا کہ آنحضرت کے سوا کوئی شخص تحمل کی صفت سے متصف ہوا ہی نہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ اس درجہ تک تحمل کا اظہار کرنے والا جس درجہ تک آپ نے ظاہر فرمایا کوئی انسان نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو گا کیونکہ آپ کمال کی اس سرحد تک پہنچ گئے ہیں کہ اس کے بعد کوئی ترقی نہیں۔ ممکن ہے کہ کوئی صاحب کہیں کہ آپ بادشاہوں اور حاکم حاکموں کی کیوں شرط لگاتے ہیں اس مقابلہ کے میدان کو اور بھی کیوں وسیع نہیں کر دیتے کہ دنیا کے کل افراد کے تحمل کو سامنے رکھ کر مقابله کر کرله لیا جائے کہ آیا کوئی انسان اس صفت میں آپ کی برابری کر سکتا ہے یا نہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ تحمل اسی انسان کا قابل قدر ہے جسے طاقت اور قدرت ہو جو شخص خود دوسروں کا محتاج ہو دوسروں سے خائف ہو اپنے دشمنوں کے خوف سے چھپتا پھر تا ہو اسے دنیا میں سر چھپانے کی جگہ نہ ملتی ہو اس کا تحمل بھی کوئی متحمل ہے اس کی زبان تو اس پر ظلم کرنے والوں نے بند کر دی ہے اور اس میں یہ طاقت ہی نہیں کہ ان کے حملوں کا جواب دے سکے پس جو حاکم نہیں یا بادشاہ نہیں یا دنیاوی لحاظ سے کوئی خاص عزت نہیں رکھتا اس کا محمل کوئی تحمل نہیں بلکہ بہت دفعہ ایک مغلوب الغضب انسان بھی اپنے ایذاء دہندوں کے خوف سے اپنے غضب کو دبا لیتا ہے ۔ اور گو دل ہی دل میں جاتا اور کڑھتا ہے اور جی ہی جی میں گالیاں دیتا اور کوستا ہے لیکن اظہار غضب کی طاقت نہیں رکھتا کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ میرے حق میں اور بھی مضر ہو گا پس آنحضرت کے مقابلہ میں اس شخص کے تحمل کی مثال پیش کی جا سکتی ہے جو آپ ہی کی طرح با اختیار اور طاقت رکھتا ہو اور پھر آپ ہی کی طرح متحمل دکھانے والا ہو ورنہ مثل مشہور ہے کہ زبردست مارے اور رونے نہ دے ایسا