انوارالعلوم (جلد 1) — Page 594
انوار العلوم جلد ! ۵۹۴ سيرة النبي کہ میرے پاس کچھ نہیں مگر وہ باز نہیں آتے۔ پھر اور پھر سوال کرتے ہیں اور باوجود آپ کے انکار کے مصر ہیں کہ ہمیں ضرور کچھ دلوایا جائے مگر آ ر کچھ دلوایا جائے مگر آپ باوجود اس شان کے کہ سارے عرب کو آپ کے سامنے گردن جھکا دینی پڑی ان سے کیا سلوک کرتے ہیں ان کے بار بار کے سوال سے ناراض نہیں ہوتے۔ ان پر خفگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ان کو بتاتے ہیں کہ آپ کے پاس اس وقت کچھ نہیں ور نہ ضرور ان کو بھی دیتے۔ لیکن وہ لوگ پھر بھی مصر ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کیا اس لئے نہیں کہ کل دنیا اس بات سے واقف تھی کہ وہ بہادر انسان جو خطرناک جنگوں میں جس وقت اس کے ساتھی بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اکیلا دشمن کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ ایسا متحمل مزاج ہے کہ اپنی حاجتوں کو اس کے پاس جس زور سے بھی پیش کریں گے وہ کبھی ناراض نہیں ہو گا۔ بلکہ اس کا جواب محبت سے بھرا ہوا اور شفقت سے مملوء ہو گا ؟ وگا پھر کیا اس لئے نہیں کہ آپ کے اخلاق حسنہ اور آپ کے حسن سلوک کا دنیا میں ایسا شہرہ تھا کہ بادیہ نشین عرب بھی اس بات سے ناواقف نہ تھے کہ ہم جس قدر بھی اصرار کریں گے ہمیں کسی سرزنش کا خطرہ نہ ہو گا۔ ضرور یہی بات تھی جس کی وجہ سے وہ عرب آپ پر اس قدر زور ڈال رہے تھے۔ اور باتوں سے ہی آپ سے کچھ وصول نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ نا امیدی ہو گئی تو آپ کو پکڑ کر اصرار کرنا شروع کرنا شروع کیا کہ ہمیں ضرور کچھ دیں۔ اور آپ ان سے ہٹتے ہٹتے راستہ سے اس قدر دور ہو گئے کہ آخر آ۔ آپ کی چادر آپ کی چادر کانٹے دار درختوں میں جا پھنسی ۔ اور اس وقت آپ نے ان کو ان محبت آمیز الفاظ میں ملامت کی کہ میں انکار بخل کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ اس مجبوری سے کہ میرے پاس اس وقت کچھ نہیں۔ اگر میرے پاس کچھ ہوتا تو میں ضرور تم کو دے دیتا حتی کہ سامنے کھڑے ہوئے درختوں کے برابر بھی اگر اونٹ میرے پاس ہوتے تو سب تم کو دے دیتا۔ اور ہرگز بخل نہ کرتا نہ جھوٹ بولتا نہ بزدلی دکھاتا۔ دنیا کا کوئی بادشاہ ایسا جواب نہیں دے سکتارہ جو اپنی عزت اور اپنی بڑائی کے طلب گار ہوتے ہیں۔ وہ اس قدر تحمل نہیں کر سکتے ۔ آنحضرت ال کی حیثیت کے انسان کا ایسے موقعہ پر جب آپ سے ان اعراب نے اس درشتی سے سلوک کیا ا تھانہ کورہ بالا جواب دینا اپنی نظیر آپ ر آپ ہی ہی ۔ ہے۔ اور دنیا کا کوئی بادشاہ کوئی حاکم کوئی سردار اس تحمل کی نظیر نہیں دکھا سکتا۔ پھر آپ جو جواب دیتے ہیں وہ کیسا لطیف ہے۔ فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔ که اگر ان درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوتے تو میں تمہیں دے دیتا۔ اور تم مجھے بخیل جھوٹا اور بزدل نہ پاتے۔ ایک موٹی نظر والے انسان کو تو شاید یہ تین الفاظ بے ربط معلوم ہوں لیکن رانا انسان سمجھتا ہے کہ یہ تینوں الفاظ جو آپ نے فرمائے بالکل موقعہ کے مطابق تھے ۔ اور ان سے بہتر لفظ اور ہو ہی نہیں جب