انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 593

سن کر خاموشی سے اپنےحلم کا ثبوت دیتے ہیں لیکن میرے آقا کا تحمل بھی لغو نہ تھا اگر آپؐ خاموش رہتے تو اس کے اعتراض کا جواب کیا ہوتا آپؐ نے تحمل کا ایک اعلیٰ نمونہ دکھا یا اور ایسا نمونہ جو کہ اپنے اندر ایک عظیم الشان سبق بھی رکھتا تھا اور معترضین کے لیے ہدایت تھا۔کاش !اس حدیث سے وہ لوگ کچھ نصیحت حاصل کریں جو ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرکے پھر اعتراضات سے نہیں رکتے کیونکہ ان کو یادرکھنا چاہیے کہ ان کا یہ فعل خود ان کی شقاوت پر دال ہے۔اب ایک اور مثال درج کر تا ہوں۔جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ اَنَّہُ بَیْنَا ھُوَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہُ النَّاسُ،مُقْبِلًا مِنْ حُنَیْنٍ،عَلِقَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْاَعْرَابُ یَسْئَلُوْنَہٗ،حَتّٰی اِضْطَرُّوْہُ اِلٰی سَمُرَۃٍ فَخَطِفَتْ رِدَاءَہٗ، فَوَقَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اَعْطُوْنِیْ رِدَائِیْ،فَلَوْ کَانَ عَدَدُ ھٰذِہِ الْعِضَاہِ نَعَمًا لَقَسَّمْتُہٗ بَیْنَکُمْ،ثُمَّ لَا تَجِدُوْنِیْ بَخِیْلًا وَلَا کَذُوْبًا،وَلَا جَبَا نًا (بخا ری کتاب الجہادباب ما کان النبی ﷺ یعطی المؤلّفۃ قلوبھم)ایک دفعہ وہ آنحضرت ﷺ کے سا تھ تھے اور آپؐ کے ساتھ اَور بھی لوگ تھے۔آپؐ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔راستہ میں کچھ بادیہ نشین عرب آگئے۔اور آپؐ کےپیچھے پڑگئے اور آپؐ سےسوال کرنے لگے۔اور آپؐ پر اس قدر زور ڈالاکہ ہٹا تے ہٹاتے کیکر کے درخت تک لے گئے۔جس سے آپؐ کی چادر پھنس گئی۔پس آپؐ ٹھہر گئے اور فر ما یا کہ میری چادر مجھے پکڑا دو۔اگر ان کانٹے دار درختوں کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہو تے (یعنی بہت کثرت سے ہو تے )تو بھی مَیں سب تم میں تقسیم کر دیتا اور تم مجھ کو بخیل اور جھوٹا اور بزدل نہ پا تے۔اللہ اللہ ! یہ وہ شخص ہے جسے نا پاک طبع انسان دنیا طلب کہتے ہیں۔اور طرح طرح کے نا پاک الزم لگا تے ہیں یہ وہ انسان ہے جسے اندھی دنیا مغلوب الغضب کہتی ہے یہ وہ وجود ہے جسے ظالم انسان ظالم قرار دیتے ہیں کیااس تحمل والا انسان ظالم یا مغلوب الغضب ہو سکتا ہے؟کیا اس سیر طبیعت کا انسان دنیا طلب ہو سکتا ہے؟عرب کا فاتح اور حنین کا بہادر اپنے خطر نا ک دشمن کو شکست دے کر واپس آرہا ہے۔ابھی اس کے سپاہیوں کی تلواروں سے خون کا رنگ بھی نہیں چھُوٹا۔زبردست سے زبردست انسان اس کو پیٹھ دکھا چکے ہیں اور اس کی تیز تلوار کے آگے اپنی گردنیں جھکا چکے ہیںاور وہ اپنی فتح مند افواج کے ساتھ میدان جنگ سےواپس آرہا ہے مگر کس شان سے اس کا حال ابھی پڑھ چکے ہو۔کچھ عرب آکر آپؐ سےسوال کر تے ہیں اور پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں کہ کچھ لیے بغیر نہیں لوٹیں گے آپؐ بار بار انکار کر تے ہیں