انوارالعلوم (جلد 1) — Page 592
خطر ناک سے خطرناک سزا کا فتویٰ دلا نے کے لیے کافی تھے۔اور اگر زمانہ قدیم کے درباروں میں ایسا انسان قتل کا مستوجب خیال کیا جا تا تو موجودہ دورِ دستور یت میں بھی ایسا آدمی سزا سے محفوظ نہ رہ سکتا لیکن وہ بادشاہ ہر دو جہاں اس کے گستاخانہ کلام کے جواب میں کیا کہتا ہے؟کیا اسے سزا کا حکم دیتا ہے؟ کہ تا ان نو مسلموں پر آپؐ کا رعب بیٹھ جائے جو نہایت نگران نگاہوں سے صحابہؓ اور آنحضرت ﷺ کے تعلقات کو اس لیے دیکھتے رہتے تھے کہ ان سے اندازہ لگاسکیں کہ یہ تعلقات مصنوعی یا حقیقی،یاعارضی ہیںیا مستقل، سطحی ہیں یا ان کی جڑیں دل کے تمام کو نوں میں مضبوطی سے گڑی ہو ئی ہیں کیا وہ میرا پیارا اگر اسے کسی بدنی سزا کا مستحق قرار نہیں دیتا۔تو کم سے کم زبانی طور پر ہی اسے سخت تہدید کر تا ہے کہ اگر ایسے الفاظ پھر تمہارے منہ سے نکلے تو تم کو سخت سزادی جا ئے گی؟نہیں وہ بھی نہیں کر تا۔کیا وہ اسے اپنے سامنے سے دور ہو جا نے کا حکم دیتا ہے؟نہیں!وہ اس سے بھی اجتناب کر تا ہے۔پھر اس مجرم کے لیے وہ کیا سزا تجویز کر تا ہے! وہ باوجود صحابہ کی چڑھی ہوئی تیوری کے اور باوجود ان کے ہاتھوں کے بار باردستہ تلوارکی طرف جا نے کے اسے نہایت پُرحکمت اور پر معنی جواب دیتا ہے جس سےبہتر جواب کو ئی انسانی دماغ تجویز کر ہی نہیں سکتا وہ اسے خود اسی کےفعل سے ملزم کر تا ہے خود اسی کے اقوال سے قائل کر تا ہے خوداسی کے اعمال سے شرمندہ کرتا ہے وہ کہتا ہے تو یہ کہ لَقَدْ شَقِیْتَ اِنْ لَّمْ اَعْدِلْ اگر میں نے عدل نہ کیا تو تُو بدبختی کے گڑھے میں گر گیا۔کیونکہ تُو نے تو مجھے خدا کارسول سمجھ کر بیعت کی ہے۔اور دعویٰ کر تا ہے کہ میں آپؐ کو خد اکی طرف سے یقین کر تا ہوں اور مجھے اپنا رہنما اور پیشوا قرار دیتا ہے تو ان خیالات کے باوجود اےنادان! جب تو مجھے انصاف سے دور اور عدل سے خالی خیال کر تا ہے تو تجھ سے زیادہ بد بخت اور کو ن ہو سکتا ہے جو اپنے آپ کو ایک ایسےشخص کے پیچھے لگا تا ہے جو اتباع کےقابل نہیں اور اس آدمی سے ہدایت چاہتا ہے جو خود گمراہ ہے اور اس سے صداقت طلب کر تا ہے جو جھوٹ بولنے میں کو ئی عیب نہیں دیکھتا اور اگر تو مجھے نبی نہیں خیال کرتابلکہ جھوٹاخیال کر تا ہے تو پھر بھی تُو نہایت شقی ہے کیونکہ باوجود مجھے جھوٹا سمجھنے کےپھر میرے سا تھ رہتا ہے اور ظا ہرکر تا ہے کہ میں آپ کو سچا خیال کرتا ہوں۔اللہ اللہ !کیسا پا ک جواب ہے کیسا مسکت اور مبکت جواب ہے جسے سن کر ایک حیا دار سوائے اس کےکہ زندہ ہی مر جا ئے اَور کو ئی جواب نہیں دے سکتا۔یہ تھا آپؐ کا تحمل یہ تھی آپؐ کی بردباری جو آپؐ کو دنیا کے تمام انسانوںسے افضل ثابت کر تی ہے۔بہت ہیں جو اشتعال انگیز الفاظ کو