انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 580

انوار العلوم جلدا ۵۸۰ سيرة النبي ال دیا جس سے وہ آئندہ کے لئے اس سے باز آجائیں۔ یعنی جب بعض لوگوں نے اس سے کہا کہ سمندر بھی تیرے ماتحت ہے تو اس نے ان پر ثابت کر دیا کہ سمندر اس کا حکم نہیں مانتا۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایک دنیاوی بادشاہ تھا اور روحانی بادشاہت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا نہ اسے روحانی حکومت و تصرف کا ادعاء تھا۔ پس اگر ایک ایسی بات کا اس نے انکار کر دیا جو اس کے اپنے راہ سے علیحدہ تھی تو یہ کچھ بڑی بات نہ تھی اسی طرح دیگر لوگ جو جھوٹی مدح سے متنفر ہوتے ہیں ان کے حالات میں بھی بہت کچھ فرق ہے آنحضرت ایک ایسی قوم میں تھے جو سر تسلیم جھکانے کے لئے صرف ایک ایسے شخص کے آگے تیار ہو سکتی تھی جو اپنی طاقت سے بڑھ کر طاقت رکھتا ہو کیونکہ اس کی رگ رگ میں خریت اور آزادی کا خون دوڑ رہا تھا پس اس کے سامنے اپنے آپ کو معمولی انسانوں کی طرح پیش کرنا بلکہ اگر ان میں سے کوئی آپ کی ایسی تعریف بھی کرے جو وہ اپنے بڑوں کی نسبت کرنے کے عادی تھے تو اسے روک دینا یہ ایک ایسا فعل تھا جس سے ایک اوسط درجہ کا انسان گھبرا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کے بغیر میرا گزارہ کیونکر ہو گا ہو گا۔ دوم آپ کو دعوی تھا نبوت کا اور نبوت میں آئندہ خبریں دینا ایک ضروری امر ہے پس یہ تعریف خود آپ کے کام کی نسبت تھی گو مبالغہ سے اسے اسے اور کا اور رنگ و رنگ دے دیا گیا تھا۔ پس آپ کا اس تعریف سے انکار کرنا دوسرے لوگوں سے بالکل ممتاز ہے اور آپ کے نیک نمونہ سے کسی اور انسان کا نمونہ خواہ وہ انبیاء میں سے ہی کیوں نہ ہو قطعاً نہیں مل سکتا۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح حریت پیدا کرنی چاہتے تھے ۔ اس قسم کے خیالات اگر پھیلائے جاتے اور آپ ان کے پھیلائے جانے کی اجازت دے دیتے تو مسلمانوں میں شرک ضرور پھیل جاتا مگر ہمارا رسول تو شرک کا نہایت خطرناک دشمن تھا وہ کب اس بات کو پسند فرما سکتا تھا کہ ایسی باتیں مشہور کی جائیں جو واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے دنیا میں شرک پھیلتا ہے پس اس نے جو نہی ایسے کلمات سنے کہ جن سے شرک کی بو آتی تھی فورا ان سے روک دیا اور اس طرح بنی نوع انسان کو ذہنی غلامی سے بچالیا اور حریت کے ایک ایسے ارفع اسٹیج پر کھڑا کر دیا جہاں غلامی کی زہریلی ہواؤں کا پہنچنا نا ممکن ہو جاتا ہے ۔ اے سوچنے والو سوچو تو سہی کہ اگر آنحضرت کو دنیا کی عزت اور رتبہ منظور تھا اور آپ کا سب کام دنیاوی جاہ و جلال حاصل کرنے کے لئے تھا تو آپ کے لئے کیا مناسب تھا۔ کیا یہ کہ لوگوں میں اپنی عزت و شان کے بڑھانے کے لئے باتیں مشہور کراتے یا کہ معتقدین کو ایسا کرنے سے روکتے کیا وہ لوگ جو اپنی خواہش اور آرزو کے ماتحت دنیا میں