انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 577

انوار العلوم جلد ! ۵۷۷ سيرة النبي غزوہ احزاب کے وقت گو آپ کے لشکر کی تعداد کم تھی مگر بارہا کھلے میدانوں میں کفار کو شکست دے چکے تھے۔ یہودیوں کے دو قبیلے جلا وطن ہو کر ان کی املاک مسلمانوں کے قبضہ میں آگئی تھیں۔ مدینہ اور اسکے گردو نواح میں آپ کی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ بقیہ یہودی معاہدہ کی رو سے مسلمانوں سے دب کر صلح کر چکے تھے اس لئے اب آپ کی پہلی حالت اور اس حالت میں بہت فرق تھا اور اب آپ ایک ملک کے حاکم یا بادشاہ تھے پس اس وقت آپ کا صحابہ کے ساتھ مل کر کام کرنا جبکہ آپ کی عمر بھی چھپن سال کی ہو چکی تھی ایک اور ہی شان رکھتا ہے اور یہ واقعہ پہلے واقعہ سے بھی زیادہ شاندار ہے۔ ہوتے تھے۔ اس واقعہ سے اس بات سے اس بات کی بھی مزید تائید ہو جاتی ہے کہ آپ کسی وقت نصیحت سے غافل نہ تھے کیونکہ اب بھی آپ نے جو شعر پڑھنے کے لئے چنے ہیں وہ ایسے با محل ہیں کہ ان میں مسلمانوں کو اپنے کام میں دل لگا۔ ر اپنے کام میں دل لگانے کے لئے ہزاروں تر ترغیبی ادی ہیں کس طرح انہیں اللہ تعالیٰ کا احسان بتایا ہے کہ یہ خدا کا ہی فضل ہے کہ تم مسلمان ہوئے اور خدا تعالیٰ پر احسان نہ جتانا کہ اس کے دین میں کوشش کر رہے ہو بلکہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اسلام کی توفیق دی اور تمہیں ہدایت کی راہوں پر چلایا ۔ پھر کس طرح اشارہ فرمایا کہ یہ جنگ کوئی دنیاوی جنگ نہیں بلکہ ایک مذہبی جنگ ہے اور اس کا اصل باعث کیا ہے ؟ صرف یہ کہ ہم خدا کو کیوں مانتے ہیں شرک کیوں نہیں کرتے اور کیوں کفار کی بات نہیں مان لیتے۔ اس میں یہ بھی بتایا ہے کہ جنگ کی ابتداء کفار کی طرف سے ہوتی ہے اور ہمارا کام تو یہی رہا ہے کہ ہم ان کی شرارتوں کے قبول کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ یہ شعر کسی اور کے کیے ہوئے ہیں اور آپ " شعر نہیں کہتے تھے مگر موقعہ پر ان شعروں کو چن لینا یہ بتاتا ہے کہ آپ کس طرح نصیحت کے پہلو کو ہمیشہ اختیار کرتے تھے عرب ایسے موقعوں پر شعر کہنے اور پڑھنے کے عادی ہیں اور صحابہ بھی شعر کہتے تھے مگر سب اشعار میں سے ان کو چن لینا یہ حکمت سے خالی نہ تھا اور واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ انتخاب بے معنی نہ تھا بلکہ مسلمانوں کو بہت سے ضروری مسائل کی طرف متوجہ کرتا تھا۔ غرض کہ آنحضرت کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ خدا کی راہ میں ہر ایک کام میں صحابہؓ کے شریک رہتے تھے اور یہ بات دنیا کے کسی بادشاہ میں اس ۔ تک نہیں پائی جاتی۔ حمد