انوارالعلوم (جلد 1) — Page 576
سٹیم کی کیا حقیقت ہے عشق کی گر می ان سے کام لے رہی تھی اور وہ مٹی جو وہ اپنی گردنوں اور کندھوں پر رکھتے تھے انہیں ہر ایک قسم کی نعمت سے زیا دہ معلوم ہوتی تھی وہ بوجھ انہیں سب غموں سے چھڑا رہا تھا اور وہ مٹی انہیں ہیروں اور جواہرات سے زیادہ قیمتی معلوم ہو تی تھی جسے نبیوں کے سر تا ج کے کندھوں پر رکھے جا نے کا فخر حاصل تھا۔کیا کو ئی مسلمان با دشاہ ایسا ہے جسے اس مٹی کے اٹھا نے میں عذر ہو! نہیں اس وقت کے اسلام سے غافل بادشاہ بھی اسے اٹھا نے میں فخر سمجھیں گے پھر نیکو کار گروہ اسے اپنی کیسی کچھ عزت نہ خیال کر تا ہوگا۔اور یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ آنحضرت ﷺ ان کو ایک گھوڑے پر کھڑے ہو ئے حکم نہیں دے رہے تھے بلکہ دوسروں کو حکم دینے سے پہلے آپ خود اپنےکندھوں پر مٹی کا ڈھیر رکھتے تھے پھر جو لوگ اپنے محبوب و آقا کو مٹی ڈھوتے دیکھتے ہوں گے وہ جس شوق سے بھی اس کا م کو کر تے با لکل مناسب اور بجا ہوتا یہ ایک ایسی اعلیٰ تدبیر تھی جس سے اگر ایک طرف آنحضرتؐ کی محبتِ الٰہی ظاہر ہو تی ہے تو دوسری طرف یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ فطرت انسانی کو خوب سمجھتے تھے اور آپؐ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر ما تحتوں میں رو ح پھونکنی ہو تو اس کا ایک ہی گر ہے کہ خود ان کے سا تھ مل کر کام کر و پھر ان میں خود بخود جوش پیدا ہو جا ئے گا اور اس طرح آپؐ نے ایک نا قابلِ فتح لشکر تیار کر دیا جو ہر زمانے کے لیے ما یۂ ناز ہے۔اس حدیث سے ہمیں کئی با تیں معلوم ہو تی ہیں۔اول تو یہ کہ آنحضرت ؐنے صرف ایک دفعہ ہی صحابہ کے ساتھ مل کر کام نہیں کیا بلکہ ہمیشہ کرتے تھے کیونکہ پہلا واقعہ جو میں نے بیان کیا ہے وہ آپؐ کی مدنی زندگی کا ابتدا ئی واقعہ ہے اور یہ چھےسال بعد کا۔جس سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ آپؐ کی عادت تھی کہ کو ئی کام کسی کو نہ دیتے مگر خود اس میں شامل ہو تے تاکہ خود بھی ثواب سے حصہ لیں اور دوسروں کو اَور بھی رغبت اور شوق پیدا ہو کہ جب ہمارا آقاخود شامل ہے تو ہمیں اس کام سے کیا عار ہو سکتا ہے۔دوسرے یہ کہ انہیں چستی سے کام کر نے کی عادت ہو اور وہ آپؐ کے شمول کی وجہ سے جس تیزی سے کام کر تے ہوں گے اسے ان کی عادت میں داخل کر دیا جا ئے۔دوسرے یہ بات معلوم ہو تی ہے کہ جس وقت آپؐ مدینہ تشریف لا ئے تھے اس وقت آپؐ بالکل نووارد تھے اور ابھی آپؐ کی حکومت قائم نہ ہو ئی تھی اور گو سینکڑوں جاں نثار موجود تھے جو اپنی جان قربان کر نے کے لیے حاضر تھے مگر پھر بھی دنیا کے لحاظ سے آپؐ کے ماتحت کو ئی علا قہ نہ تھا مگر