انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 573 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 573

کے مقابلہ میں اسے رکھا جا ئے۔دوسرے شعر میں آنحضرتؐ نے انہیں بتا یا ہے کہ اس کا م میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہو گا اور بجا ئے فوری نفع کے انجام کی بہتری ہو گی اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیا دہ کا میاب کو ن ہو سکتا ہے پس اسی پر نظر رکھو۔اور سا تھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر دی کہ خدایا ! یہ لو گ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لیے مشقت اٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔پس شاعر نے تو جن خیالات کے ما تحت اشعار کہے ہوں گے ان سے وہی واقف ہو گا مگر آپؐ نے ان اشعار کو پڑھ کر اس کے معانی کو وہ وسعت دے دی ہے کہ با ید و شاید۔ہر کام میں صحابہ ؓ کے شریک ہو تے میں نے اس سے پہلے آنحضرت ﷺ کی زندگی کا ایک ایسا واقعہ بیان کیا ہے جس سے آپؐ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر رو شنی پڑتی ہے اور انسانی قلب اس سے اعلیٰ سے اعلیٰ اصول طہارت نفس کے اور قومی ترقی کے نکال سکتا ہے۔اب میں ایک اَور واقعہ اسی پہلے واقعہ کی تا ئید میں درج کر تا ہوں لیکن چونکہ وہ نئے حالا ت اور نئے واقعات کو لیے ہوئے ہے اس لیے اس کا ذکر بھی کسی قدر تفصیل سے ہی منا سب ہے۔یہ با ت تو تا ریخ دان لو گ جا نتے ہیں کہ آنحضرت ؐ سے جو مخالفت مکہ والوں کو تھی اس کی نظیر دنیا کی کسی اَور تا ریخ میں نہیں ملتی۔آپؐ کی مخالفت اور ایذا رسانی کے لیے جو تدا بیر انہوں نے کیں یا جو منصوبے انہوں نے با ندھے وہ اپنی نظیر آپ ہی تھے اور کبھی کسی قوم نے دنیاوی مخالفت میں یا دینی عداوت میں کسی انسان کی بلا وجہ ایسی بدخواہی نہیں کی جیسی اہل مکہ نے آنحضرتؐ سے کی مگر خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں آنحضرت ﷺ کو فتح دی اور آپؐ ہر دشمن پر فاتح رہے۔گو چھوٹے چھوٹے حملے تو مدینہ میں ا ٓ تے ہی شروع ہو گئے تھے مگر دراصل جنگوں کی ابتدا اب جنگ بدر سے ہی سمجھنا چاہیے کہ جس نے ایک طرف کفار کے بڑے بڑے سرداروں کو خاک میں ملا دیا اور دوسری طرف مسلمانوںپر ثابت کر دیا کہ خدا تعالیٰ کی تا ئید انسان کو ہر مشکل سے سلامت نکال سکتی ہے اور دشمن خواہ کتنا ہی بہا در اور تعداد میں زیا دہ ہو آسمانی تدابیر کا مقابلہ نہیں