انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 572 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 572

انوار العلوم جلدا ۵۷۲ سيرة النبي میں صحابہ کے شریک حال بن کر ان کو خطر ناک سے خطرناک اور خوفناک سے خوفناک کام کے کرنے پر آمادہ کر دیتے تھے۔ اور اسی طرح دنیا داروں کی نظروں میں ادنیٰ سے ادنی نظر آنے والے کاموں میں بھی ساتھ شریک ہو کر ان کے دلوں سے جھوٹی عزت اور تکبر کے خیالات کو بالکل نکال دیتے تھے اور اس طریق کا آپ ان کو دس سال متواتر عادی کرتے رہے تھے ۔ یہ عادت انہیں کیونکر بھول سکتی تھی۔ چنانچہ جب صحابہ کو اپنے سے کئی کئی گنا سپاہ سے مقابلہ پیش آیا اور اس وقت کی کل متمدن قوموں سے ایک ہی وقت میں جنگ چھڑ گئی تو ان کے قدموں میں وہ ثبات دیکھا گیا اور ان کے ہاتھوں نے ایسی طاقت کے کارنامے دکھائے اور ان کے دلوں نے ایسی بے ہراس اور بے خونی کا اظہار کیا کہ دنیا دنگ ہو گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آنکھوں کے سامنے آنحضرت کا پاک نمونہ ہر وقت رہتا تھا اور وہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس دین و دنیا کے بادشاہ کو نہ بھولتے تھے اور اپنے سے دس دس گنا فوج کو الٹ کر پھینک دیتے تھے بلکہ صحابہ دوسرے عربوں کی جنگ پر بھی مہنتے تھے اور کہتے تھے کہ اب دنیا کو کیا ہو گیا۔ آنحضرت کے ماتحت تو ہم اس طرح لڑتے تھے کہ پروں کے پرے اڑا دیتے تھے اور کوئی ہمارے سامنے ٹھر نہ سکتا تھا پس آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے میں تدبیر ملکی کا وہ نمونہ نمایاں ہے کہ جس کی مثال کوئی اور انسان نہیں پیش کر سکتا۔ اس حدیث سے ایک اور بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت کو ہر وقت اپنے صحابہ کو نیکی اور تقوی کی تعلیم دینے کا خیال رہتا تھا کیونکہ آپ نے اس موقع پر جو اشعار مچنے ہیں وہ ایسے بے نظیر اور مناسب موقع ہیں کہ ان کرنا ممکن ہے۔ آپ کی عادت تھی کہ آپ پورا شعر نہیں پڑھا کرتے تھے مگر صرف اس موقع پر یا ایک دو اور موقعوں پر آپ نے پورے شعر پڑھے ہیں۔ ہاں آپ " شعر بالکل نہ ۔ انہ کہتے تھے اور یہ شعر بھی کسی اور مسلمان کے کہے ہوئے تھے ۔ سے بڑھ کرنا ہاں تو ان اشعار میں آپ نے صحابہ کو بتایا ہے کہ تم خیبر کی کھجوریں اور سبزیاں وغیرہ اکثر اُٹھاتے ہوگے اور اس کے اٹھانے میں تمہیں یہ خیال ہوتا ہو گا کہ ہم دنیا کا فائدہ اٹھائیں گے اور مال کمائیں گے ۔ مگر یہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے لئے جو کام انسان کرتا ہے وہ گو بظاہر کیسا ہی ادنیٰ معلوم ہو ہو ۔ ۔ در حقیقت نہایت پاک اور عمدہ عمدہ نتائج نتائج پیدا پیدا کر کرنے والا ہوتا ہے پس یہ خیال اپنے دلوں میں مت لانا کہ ہم اس وقت کیسا ادنی کام کرتے ہیں کہ مٹی اور اینٹیں ڈھو رہے ہیں بلکہ خوب سمجھ لو کو یہ اینٹیں جو تم ڈھو رہے ہو ان کھجوروں اور میووں کے بوجھ سے جو خیبر سے آتا ہے کہیں بہتر ہیں اور اس میں تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا سامان ہے ان میووں کے بوجھ کی ہستی ہی کیا ہے کہ اس