انوارالعلوم (جلد 1) — Page 571
انوار العلوم جلدا ۵۷۱ سيرة النبي اور اسی حکمت سے کام لے کر آنحضرت نے صحابہ کی زندگیوں میں ایسی تبدیلی پیدا کر دی تھی کہ وہ معمولی انسانوں سے بہت زیادہ کام کرنے والے ہو گئے تھے۔ وہ ہر ایک کام میں اپنے سامنے ایک نمونہ دیکھتے تھے حتی کہ اگر اینٹیں ڈھونے کا کام بھی ہوتا تھا جو عام مزدوروں کا کام ہے اور ان کا رسول انہیں اس کام کے کرنے کا حکم دیتا تھا تو سب سے پہلے وہ خود اس کام کی ابتداء کرتا تھا جس کی وجہ سے مردہ دلوں کے دل زندہ اور مستوں کے بدن چست اور کم ہمتوں کی ہمتیں بلند ہو جاتی تھیں۔ ہر ایک عظمند اس بات کو سوچ کر معلوم کر سکتا ہے کہ جو لوگ آنحضرت کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ آپ خدا تعالی کے برگزیدہ بندے ہیں ، اس کے رسول ہیں اس کے نبی ہیں سب انبیاء سے ان افضل ہیں ، آپ کی اطاعت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے ، آپ کی ہی فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے ، آپ کل انبیاء انبیاء کے کمالات کے جامع ہیں ، آپ کی ہی خدمت کرنے سے جنت کے دروازے کھلتے ہیں ، وہ جب دیکھتے ہوں گے کہ ایسا عظیم الشان انسان خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھ کر مسجد بنانے والوں تک پہنچاتا ہے تو ان کے اندر کن خیالات کا دریا موجزن ہوتا ہو گا اور وہ کسی جوش اور کس خلوص سے اس کام کو بجالاتے ہوں گے بلکہ کس طرح بجائے تکان کے انکے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہوگی۔ ان میں اچھے اچھے رؤساء بھی تھے ، سردار بھی تھے ، مالدار بھی تھے ، معزز بھی تھے مگر وہ سب کے سب اپنے عقیدہ کی بناء پر اپنے آپ کو آنحضرت سے کم درجہ پر یقین کرتے تھے اور اپنے آپکو خادم سمجھتے تھے۔ پس جب وہ آپ کو اس جوش سے کام کرتے ہوئے دیکھتے ہوں گے تو کیا ان کے بدن کے ہر ایک حصہ میں سنسناہٹ نہ پھیل جاتی ہوگی اور کیا امیر سے امیر انسان بھی اس بلند رتبہ انسان کی معیت میں اینٹیں ڈھونا اپنے لئے ایک نعمت عظمی نہ خیال کرتا ہو گا اور بجائے ذلت کے عزت نہ جانتا ہو گا۔ ہاں ان میں سے ہر ایک ایسا ہی سمجھتا ہو گا اور بالکل ایسا ہی سمجھتا ہو گا۔ اور چونکہ آنحضرت اپنی ساری عمر میں اسی نمونہ پر قائم رہے اور آپ نے کبھی اس سنت کو ترک نہیں کیا اس لئے آپ کے صحابہ میں یہ بات طبیعت ثانی ہو گئی تھی اور وہ روزانہ ان کی معیت کے جوش سے متاثر ہو کر جس طرح کام کرتے تھے اس کے ایسے عادی ہو گئے تھے کہ آ۔ آپ کی غیر حاضری میں بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی ان کا طریق عمل وہی تھا اور یہ ایک عام بات ہے کہ انسان جس کام کو کچھ مدت تک لگا تار کرتا رہے اس کا عادی ہو جاتا ہے اور جو لوگ ابتداء میں سستی کی عادت ڈال لیتے ہیں وہ سنت ہی رہتے ہیں اور جو چستی سے کام کرنے کے عادی ہوں وہ اسی طریق پر کام کئے جاتے ہیں پس جبکہ آنحضرت ہر ایک کام