انوارالعلوم (جلد 1) — Page 31
انوار العلوم جلد 1 ۳۱ محبت الهی نیچے آچکا ہے ۔ کیونکہ تین خداؤں کی کونسل ظاہر کرتی ہے کہ ایک خدا انتظام مخلوق سے قاصر ہے جو کہ خود ان کے عقیدہ کے برخلاف ہے ۔ وہ خدا کو قادر مطلق سمجھتے ہیں پھر کیونکر ممکن ہو کہ تینوں قادر ہوں قادر مطلق تو وہ ہے جو بلا کسی اور کی مدد کے حکمران ہو مگر یہاں تو دو اور ساتھ لگے ہوئے ہیں ہم خود عیسائی سلطنتوں میں دیکھتے ہیں کہ جب ایک کام پر ایک سے زیادہ آدمی لگائے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک کو دوسرے کی نسبت زیادہ اختیار دیئے جاتے ہیں اور وہ بوجہ اس امتیاز کے جو کہ اپنے دوسرے ساتھیوں پر رکھتا ہے اس اختلاف کو مٹاتا ہے جو کہ وقتاً فوقتاً حادثات زمانہ اور ضروریات وقت کی وجہ سے ان میں پڑ جاتا ہے۔ پس اگر یہ ممکن تھا کہ تین ہی قادر مطلق ہوں تو یہ عیسائی سلطنتیں جو کہ حضرت عیسی کی غلامی کا دم بھرتی ہیں کچھ نمونہ ہم کو بھی تو دکھلائیں کہ کس طرح تین کا قادر مطلق ہونا ممکن ہو سکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ملتی ہوئی بات بھی ہم ان میں نہیں پاتے تو کیوں کر خیال کر سکتے ہیں کہ ان کے خدا تین بھی ہیں اور پھر قادر مطلق بھی اور پھر ایک کے ایک تین کا ہندسہ ظاہر کرتا تھا کہ انتظام کے لئے کثرت رائے پر فیصلہ ہوتا ہو گا۔ مگر افسوس اور حیرت کی بات تو یہی ہے کہ پھر وہ تینوں قادر مطلق بھی ہیں اگر کثرت رائے ہوتی ہے تو جب ایک مخالف کی بات نہ مانی جاتی ہو گی تو کیا اس کی قدرت میں کوئی فرق نہیں واقع ہوتا ہو گا۔ بات یہ ہے کہ یہ عقیدہ کچھ ایسا بے ڈھنگا اور لغو واقع ہوا ہے کہ کوئی انسانی عقل حتی کہ خود عیسائی بھی اس کو سمجھ نہیں سکتے بلکہ جب ان سے سوال کیا جائے تو صاف جواب دیتے ہیں کہ یہ عقیدہ انسانی عقل سے بالا ہے مگر کیا وہ عقیدہ جو انسانی عقل سے بالا ہو اس قابل ہے کہ انسان کے سامنے پیش کر کے اس کو پریشان اور حیران کر دیا جائے کیا یہ عیسائیوں کے خدا کی کونسل کا ظلم نہیں کہ وہ ایسا عقیدہ انسان کو منوانا چاہتی ہے جس کے مطابق اس نے انسان کا دماغ بنایا ہی نہیں۔ ایک دنیاوی گورنمنٹ تو اپنی رعایا کی بہتری کی تجاویز سوچتی ہے اور نہیں تو کم سے کم اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ کہیں وہ بوجھ جو میں اس پر ڈالتی ہوں حد سے زیادہ تو نہیں ہو جاتا مگر یہ آسمانی کو نسل اس بات پر انسان کو دائمی دوزخ میں ڈالتی ہے جس کا ماننا اس کے لئے نا قابل برداشت بوجھ ہے ۔ کیا یہی وہ عدل ہے کہ جس پر عیسائیوں کا خد الخر کرتا ہے ؟ پھر ایک اور بات ہم کو نہایت تعجب میں ڈالتی ہے کہ جبکہ زمانہ ایک ہے یعنی جب سے خدا ہے اس وقت سے بیٹا۔ اور ساتھ ہی قدرت اور طاقت بھی ایک ہی ہے اور پھر بیٹے کی ماں بھی کوئی نہیں تو ایک کو بیٹا اور ایک کو باپ کس طرح قرار دیا گیا ہے کیا بیٹے کا حق نہیں کہ وہ باپ ہونے کا دعویٰ کرے جبکہ وہ قادر مطلق ہے اور باپ کا ہم عمر بھی تو کیوں اس کی حق تلفی کر