انوارالعلوم (جلد 1) — Page vi
طور پر فرماتے ہیں :- میں وہ تھا جسے کل کا بچہ کہا جاتا تھا۔ میں وہ تھا جسے احمق اور نادان قرار دیا جاتا تھا مگر عہدہ خلافت کو سنبھالنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآنی علوم اتنی کثرت کے ساتھ کھولے کہ اب قیامت تک امت مسلمہ اس بات پر مجبور ہے کہ میری کتابوں کو پڑھے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔ وہ کون سا اسلامی مسئلہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ اپنی تمام تفاصیل کے ساتھ نہیں کھولا۔ مسئلہ نبوت ، مسئلہ کفر مسئلہ خلافت ، مسئلہ تقدیر قرآنی ضروری امور کا انکشاف اسلامی اقتصادیات اسلامی سیاست اور اسلامی معاشرت وغیرہ پر تیرہ سو سال سے کوئی وسیع مضمون موجود نہیں تھا۔ مجھے خدا تعالیٰ نے اس خدمت دین کی توفیق دی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ سے ہی ان مضامین کے متعلق قرآنی معارف کھولے۔ جن کو آج دوست دشمن سب نقل کر رہے ہیں۔ مجھے کوئی لاکھ گالیاں دے ۔ مجھے لاکھ بُرا کیے۔ جو شخص اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلائے گا اسے میرا خوشہ چیں ہونا پڑے گا۔ اور وہ میرے احسان سے کبھی باہر نہیں جاسکے گا ۔۔۔ پس مجھے یہ لوگ کچھ کہیں خواہ کتنی ہی گالیاں دیں ان کے دامن میں قرآن کے علوم پڑیں گے تو میرے ذریعہ ہی۔ اور دنیا ان کو کہنے پر مجبور ہو گی کہ اے نادانو ! تمہاری جھولی میں تو جو کچھ بھرا ہوا ہے وہ تم نے اس سے لیا ہے پھر اس کی مخالفت تم کس منہ سے کر رہے ہو ؟" فضل عمر فاؤنڈیشن کے مقاصد اور فرائض میں سے ایک اہم مقصد اور فرض یہ بھی ہے کہ فاؤنڈیشن خلافت ثانیہ کے انوار اور فیوض کے سرچشموں کو اس طور پر محفوظ کرنے کا سامان کرے کہ وہ ہمیشہ کے لئے سالکین کی سیرابی کے لئے میسر رہیں۔ فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ کے اس عظیم روحانی خزانے کو جو پچاس سال سے زائد عرصہ پر پھیلا ہوا ہے اور جن کی تعداد 250 کے لگ بھگ ہے۔ بڑی محنت اور لگن سے جمع کر کے ان کو سال دار ترتیب دیکر شائع کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ حضرت مصلح موعود کے گرانقدر علمی ورثہ کا ورثہ کی طباعت و اشاعت و اشاعت کی تجویز حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بغرض منظور و رہنمائی بھجوائی گئی تو حضور نے فرمایا "ٹھیک ہے جزاکم اللہ (نیز فرمایا) اچھی تجویز ہے " اس حوصلہ افزائی سے متعلقہ کارکنان نے بڑی محنت اور جد و جہد سے 52 سالہ دور کی کتب جمع کیں اس سلسلہ میں اب تک جو کام ہو چکا تھا اس کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کتب کے حصول