انوارالعلوم (جلد 1) — Page 570
کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارثِ علوم ِسماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے اصحاب ؓکی مددکی۔کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیارہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پا کبازی اور زبا نی جمع خرچ کر نے والوں میں تمیز کر دیتا ہے اور عمل ہی میں آکر سب مدعیانِ تقویٰ کو آپؐ کے سامنے با ادب سر جھکا کر کھڑا ہو نا پڑتا ہے۔اس حدیث سے اگر ایک طرف ہمیں یہ معلوم ہو تا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی را ہ میں کسی قسم کے کام کرنے سے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی ادنیٰ کیوں نہ ہو کسی قسم کا عار نہ تھا۔آپؐ اس معبود حقیقی کی رضا کی تمام را ہوں میںدوسروں سے آگے قدم ما رتےتھے تو دوسری طرف یہ امر بھی رو شن ہو جا تا ہے کہ آپؐ ما تحتوں سے کام لینے کے ہر فن میں بھی اپنی نظیر آپؐ ہی تھے۔تاریخ نے ہزاروں لا کھوں بر سوں کے تجربات کے بعد ثابت کیا ہے کہ ماتحتوں میںجوش پیدا کر نے اور انہیں اپنے فرائض کے ادا کر نے میں ہو شیا ر بنانے کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ نسخہ یہی ہے کہ خود آفیسر بھی انہیں کام کرکے دکھا ئیںاور جو شخص خود کام کرے گا اس کے ماتحت ضرور کام میں چست و چالاک ہوں گے مگر جو آفیسر کام سے جی چرائے گا اس کے ماتحت بھی اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کو تا ہی کریں گے اور بہا نہ ہی ڈھونڈتے رہیں گے کہ کسی طرح اپنی جان چھڑا ئیں۔آنحضرتؐ نے اس گُر کو ایسا سمجھا تھا کہ آپؐ کی سا ری زندگی اس قسم کی مثالوں سے پُر ہے۔آپؐ اپنے ما تحتوں کو جو حکم بھی دیتے اس میں خود بھی شریک ہو تے اور آپؐ کی نسبت کو ئی انسان یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپؐ صحابہ ؓکو مشکلات میں ڈال کر خود آرام سے بیٹھ رہتے ہیں بلکہ آپؐ ہر ایک کام میں شریک ہوکر ان کے لیے ایسی اعلیٰ اور ارفع نظیر قائم کر دیتے کہ پھر کسی کو اس پر اعتراض کر نے کاموقع نہ رہتا۔اگر کو ئی افسر اپنے ماتحتوں کو کو ئی حکم دے کر خود آرام سے پیچھے بیٹھ رہے تو ضرور ان کے دل میں خیال گزرے گا کہ یہ شخص خود تو آرام طلب ہے مگر دوسروں کو ان کی طاقت سے بڑھ کر کام دیتا ہے اور گو مفوضہ کام زیا دہ بھی نہ ہو تو بھی وہ با لطبع خیال کر یں گے کہ انہیں ان کی طا قت سے زیادہ کا م دیا گیا ہے اور اس بے دلی کی وجہ سے وہ جس قدر کا م کر سکتے ہیں اس سے نصف بھی نہ کر سکیں گے اور جو کچھ کریں گے بھی وہ بھی اد ھورا ہو گا مگر جب خود افسر اس کام میں شریک ہو گا اور سب سے آگے اس کا قدم پڑتا ہو گا تو ما تحت شکایت تو الگ رہی اپنی طاقت اور قوت کا سوال ہی بھول جائیں گے اور ان میں کوئی اَور ہی روح کا م کرنے لگے گی۔