انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 566

حدیث درج کر تا ہوں جس سے معلوم ہو گا کہ یہ واقعہ چند مہینوں یا سالوں کا نہیں بلکہ آپؐ کی وفات تک یہی ہو تا رہا اور صرف چند ماہ تک آپ نے اس مشقت کو برداشت نہیں کیابلکہ آپ ہمیشہ اس سادگی کی زندگی کے عادی رہے اور عسر ویسر ایک سا حال رہا۔اگر ابتدا عہد میں کہ آپؐ دشمنوں کے نرغہ میں گھرے ہو ئے تھے اور آپؐ کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا تھا آپؐ اس سا دگی سے بسر کرتے تھے تو اس وقت بھی جبکہ روپیہ آپؐ کے پا س آتااور آپؐ ایک ملک کے بادشاہ ہو گئے تھے آپؐ اسی سا دگی سے بسراوقات کرتے اور کھا نے پینے کی طرف زیا دہ تو جہ نہ فر ماتے تھے۔حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ اَنَّہٗ مَرَّ بِقَوْمٍ بَیْنَ اَیْدِ یْھِمْ شَاۃٌ مَصْلِیَۃٌ فَدَعَوْہُ فَاَبٰی اَنْ یَّاْکُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الدُّنْیَا وَلَمْ یَشْبَعْ مِنْ خُبْزِ الشَّعِیْرِ(بخاری کتاب الا طعمۃ باب ما کان النبی ﷺ و اصحابہ یا کلون)یعنی حضرت ابو ہریرہؓ ایک جماعت پر گزرے اور اس کے سا منے ایک بھنی ہو ئی بکری پڑی ہو ئی تھی پس انہوںنے آپؓ کو بھی بلایا مگر آپؓ نے کھانے سے انکار کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے گزر گئے اور آپؐ نے پیٹ بھر کر جَو کی رو ٹی نہیں کھائی(اس لیے میں بھی ایسی چیزیں نہیں کھا تا) اس حدیث سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ ایک دو دن نہیں بلکہ وفات تک آنحضرت ؐ نے ایسی ہی سا دہ زندگی بسر کی۔اس بات کی تصدیق حضرت عائشہ ؓ بھی فرماتی ہیں۔آپؓ سے روایت ہے کہ مَا شَبِعَ اٰلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلَاثَ لِیَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ(بخاری کتاب الا طعمۃ باب ما کان النبیﷺو اصحابہ یا کلون) یعنی رسول اللہ ﷺکی آل نے اس وقت سے کہ آپؐ مدینہ تشریف لا ئے اس وقت تک کہ آپؐ فوت ہو گئے تین دن متواتر گیہوں کی رو ٹی پیٹ بھر کر نہیں کھا ئی۔ان تینوں حدیثوں کو ملا کر روز رو شن کی طرح ثابت ہو جا تا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نہایت سادگی سے زندگی بسر کی اور باوجود اس محنت اور مشقت کے جو آپؐ کو کرنی پڑتی تھی آپؐ اپنے کھانے پینے میں اسراف نہ فر ما تےتھےاور اسی قدر کھا تے جو زندگی کے بحال رکھنے کے لیے ضروری ہو اور آپؐ کا کھانا عبادت اور قوت کے قائم رکھنے کے لیے تھا نہ کہ آپؐ کی زندگی دنیا کے بادشاہوں کی طرح کھانوں کی خواہش میں گزرتی تھی۔آپؐ ہی اس مصرع کے پورا کر نیوالے تھے۔