انوارالعلوم (جلد 1) — Page 565
انوار العلوم جلدا ۵۷۵ سيرة النبي الله اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارُ فَقُلْتُ يَا خَالَةُ مَا كَانَ يُعِيشُكُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمَرُ وَ الْمَاءُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ كَانَ لِرَسُولِ سُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيْرَانَ مِّنَ الْأَنْصَارِ كَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ وَكَانُوا يَمْنَحُوْنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَانِهَا فَيَسْقِيْنَا البَابِ الهبة و فضلها، اے میرے بھانجے ہم لوگ تو دیکھا کرتے تھے ہلال کے بعد ہلال حتی کہ تین تین ہلال دیکھ لیتے یعنی دو ماہ گزر جاتے مگر آنحضرت ا کے گھر میں آگ نہ جلتی تھی۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے خالہ پھر آپ لوگ کیا کھاتے تھے ۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا کہ اشورانِ یعنی کھجور اور پانی کھا کر گزارہ کیا کرتے تھے ۔ ہاں اتنی بات تھی کہ رسول اللہ اس کے ارد گرد انصار ہمسایہ تھے اور ان کے پاس دودھ والی بکریاں تھیں وہ آپ کو ان کا دودھ ہدیہ کے طور پر دیا کرتے تھے اور آپ دودھ ہمیں پلا دیا کرتے تھے۔ اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے کہ دو دو ماہ تک آگ ہی نہیں جلتی اور صرف کھجور اور پانی یا دودھ پر گزارہ ہوتا ہے اس طریق عمل کو دیکھ کر مسلمانوں کو شرمانا چاہئے کیونکہ آجکل اسی اکل و شرب کی مرض میں گرفتار ہیں۔ اگر پوری طرح تحقیقات کی جائے تو مسلمانوں کا روپیہ کھانے پینے میں ہی خرچ ہو جاتا ہے اور وہ مقروض رہتے ہیں۔ وہ اس نبی کی امت ہیں جو مقتدر ہو کر پھر سادہ زندگی بسر کرتا تھا پھر کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان کے پاس نہیں ہوتا اور وہ زبان کے چسکے کو پورا کرنے کے لئے قرض لے کر اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالتے ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ کو آنحضرت کے اسوہ حسنہ پر چلاتے اور اسراف سے مجتنب رہتے تو آج اس بد تر حال کو نہ پہنچتے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت اگر ایک طرف سادگی کا نمونہ تھے تو دوسری طرف رہبانیت کو بھی ناپسند فرماتے تھے ۔ اور اگر اعلیٰ سے اعلیٰ غذا آپ کے سامنے پیش کی جاتی تھی تو اسے بھی استعمال فرماتے تھے اور یہ نہیں کہ نفس کشی کے خیال سے اعلیٰ غذاؤں سے انکار کر دیں اور یہی کمال ہے جو آپ کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دیتا ہے کیونکہ آپ کل دنیا کے لئے آئے تھے نہ کہ صرف کسی خاص قوم یا خاص گروہ کے لئے اس لئے آپ کا ہر قسم کی خوبی میں کامل ہونا ضروری تھا اور اگر آپ ایک طرف سادہ زندگی میں کمال رکھتے تھے تو دوسری طرف طیب اشیاء کے استعمال سے بھی قطعاً اجتناب نہ فرماتے تھے ۔ ۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی ایسی بات بھی وفات تک آپ کا یہی حال رہا ہو جاتی تھی کہ دو ماہ تک آگ نہ جلے مگر اب میں ایک اور