انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 562

اور اپنے گھروں کی رونق کے بڑھانے کے عادی تھے اور عرب کے اردگرد دو قومیں ایسی بستی تھیں کہ جو اپنی طاقت و جبروت کے لحاظ سے اُس وقت کی کُل معلومہ دنیا پر حاوی تھیں۔ایک طرف ایران اپنی مشرقی شان و شوکت کے ساتھ اپنے شاہانہ رعب و داب کو کُل ایشیا پر قائم کیے ہوئے تھا تو دوسری طرف روم اپنے مغربی جاہ و جلال کے ساتھ اپنے حاکمانہ دستِ تصرف کو افریقہ اور یورپ پر پھیلائے ہوئے تھا اور یہ دونوں ملک عیش و طرب میں دوسری حکومتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے تھے اور آرائش و آرام کے ایسے سامان پیدا ہو چکے تھے کہ بعض باتوں کو تو اب اس زمانہ میں بھی کہ آرام و آسائش کے سامانوں کی ترقی کمال درجہ کو پہنچ چکی ہے نگاہِ حیرت سے دیکھا جاتا ہے۔دربارِ ایران میں شاہانِ ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور اُن کے گھروں میں جو کچھ سامانِ طرب جمع کیے جاتے تھے اُسے شاہنامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں اُن سامانوں کی تفصیل کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا کہ دربار ِشاہی کی قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کا نقشہ زمردوں اور موتیوں کے صَرف سے تیار کر کے میدانِ دربار کو شاہی باغوں کا مماثل بنا دیا جاتا تھا۔ہزاروں خدام اور غلام شاہِ ایران کے ساتھ رہتے اور ہر وقت عیش و عشرت کا بازار گرم رہتاتھا۔رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان و شوکت کے شیدا نہ تھے تو مغربی آرائش اور زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے۔جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس طریق سے خرچ کیا ہے۔پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدر حکومتوں کے درمیان واقع تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش و عشرت اسے لُبھارہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔آنحضرت ﷺکا بادشاہِ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متأثر نہ ہونا اور روم و ایران کے دامِ تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے بُت کو مار کر گرا دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاکبازوں کا سردار اور طہارتُ النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔