انوارالعلوم (جلد 1) — Page 561
انوار العلوم جلد 1 ۵۶۱ سيرة النبي سے بھی کہلا بھیجا کہ حضور کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے۔ جب آپ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔ جب آپ اس کے گھر پہ پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلوایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آگیا ہے اب بتاؤ کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں۔ اس نے کہا یا رسول اللہ اجازت ہے تو آپ اس کے سمیت اندر چلے گئے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے۔ شاید آپ کی جگہ کوئی اور ہو تا تو چپ ہی رہتا مگر آپ دنیا کے لئے نمونہ تھے اس لئے ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے ہمارے لئے مشکل ہوتی۔ آپؐ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ سادگی ہی انسان کے لئے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپ کی عزت تکلف یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ آپ ظاهری خاموشی یا وقار سے بڑا بنا چاہتے تھے بلکہ آپ کی عزت خدا کی طرف سے تھی۔ میں نے پچھلی فصل میں بتایا ہے کہ آپ کس طرح سادگی سے کام گھر کا کام کاج خود کر لیتے لیتے اور تکلفات سے پر ہیز کرتے تھے اور بناوٹ سے کام نہ لیتے تھے۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آنحضرت نہ صرف بے تکلفی سے سب کام کر لیتے اور اس معاملہ میں سادگی کو پسند فرماتے بلکہ آپ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ اسراف اور غلو جو امراء اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے اپنی زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جائیں اور اس پر عمل کرنا تو الگ رہا یورپ کے بادشاہ شاید یہ بھی نہ مان سکیں کہ کوئی ایسا بادشاہ بھی تھا جسے دین کی بادشاہت بھی نصیب تھی اور دنیا کی حکومت بھی حاصل تھی مگر پھر بھی وہ اپنے اخراجات میں ایسا کفایت شعار اور سادہ تھا اور پھر بخیل نہیں بلکہ دنیا نے آج تک جس قدر سخی پیدا کئے ہیں ان سب سے بڑھ کر سخی تھا۔ جن کو اللہ تعالیٰ دولت اور مال دیتا ہے ان کا حال لوگوں سے پوشیدہ نہیں۔ غریب سے غریب ممالک میں بھی نسبتا امراء کا گروہ موجود ہے حتی کہ جنگلی قوموں اور وحشی قبیلوں میں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ امراء کا ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جو فرق نمایاں ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں خصوصاً جن قوموں میں تمدن بھی ہو ان میں تو امراء کی زندگیاں ایسی پر عیش و عشرت ہوتی ہیں کہ ان کے اخراجات اپنی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ آنحضرت جس قوم میں پیدا ہوئے وہ بھی فخرو خیلاء میں خاص طور پر مشہور تھی اور حشم و خدم کو مایہ ناز جانتی تھی۔ عرب سردار با وجود ایک غیر آباد ملک کے باشندہ ہونے کے بیسیوں غلام رکھتے