انوارالعلوم (جلد 1) — Page 560
انوار العلوم جلدا ۵۶۰ سيرة النبي ا نہیں رہی۔ اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا۔ مگر آنحضرت ان تکلفات سے بری تھے ۔ آپ کی عظمت خدا کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا۔ یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ انهُ سُئِلَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمْ ( بخاری کتاب الصلوۃ باب الصلوٰۃ فی النعال) یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔ آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ آپ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے۔ اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں۔ اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے مگر آنحضرت " جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آپ کا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ متکلفات کے پابند تھے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔ پس جب جو جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔ اور آپ نے ایسا کر کے امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لئے تکلفات اور بناوٹ سے بچالیا۔ اس اسوہ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے جو آجکل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔ جس فعل سے عظمتِ الہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آسکتا۔ حضرت ابن مسعود انصاری سے روایت ہے قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ اَبُوْ شُعَيْبِ وَكَانَ لَهُ غُلَامُ لَامُ م فَقَالَ اِصْنَعْ لِى طَعَا طَعَا مَا أَدْعُوْ رَ سُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهُذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ بَلْ اَذِنْتُ لَهُ (بخارى كتاب الاطعمة باب الرجل يتكلف الطعام لاخوانه آپؐ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا۔ اس کا نام ابو شعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا۔ اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لئے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ اس کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کے لئے بلاؤں گا۔ پھر اس نے رسول کریم ا