انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 552

سینکڑوں موقعوں پر قربا ن ہو کر دکھا بھی دیا مگر پھر بھی ہر قسم کے لوگ ہو تے ہیں۔کچھ کمزور اور ناتوان ہو تے ہیں کچھ قوی دل اور دلیر اس لیے حضور ؐنے اس موقع پر نہایت احتیاط سے کام لیا اوربجا ئے اس کے کہ فوراً صحابہ ؓکو حکم دیتے کہ ہوازن سے میرا رضا عی رشتہ ہے تم ان کے اموال اور قیدی رہا کر دو اول تو خود ہوازن کو ہی ملا مت کی کہ تم نے دیر کیوں کی اگر تم وقت پر آجا تے توجس طرح اور عرب قبا ئل سے سلوک کیا کر تے تھے تم پر بھی احسان کیا جا تا اور تمہارا سب مال اور قیدی تم کو مل جاتے مگر خیر اب تم کو اموال اور قیدیوں میں سے ایک چیز دلا سکتا ہوں اور اس فیصلہ سے آنحضرتؐ نے گو یا نصف بوجھ مسلمانوں پر سے اٹھا دیا اور فیصلہ کر دیا کہ دو میں سے ایک چیز تو انہیں کے ہا تھ میں رہنے دی جائے اور جب ہوازن نے قیدیوںکی واپسی کی درخواست کی تو آپؐ نے پھر بھی مسلمانوں کو سب قیدی واپس کر نے کا حکم نہیں دیابلکہ کہہ دیا کہ جو چاہے اپنی خوشی سے آزاد کر دے اور جو چاہے اپنا حصہ قائم رکھے۔آئندہ اللہ تعالیٰ جو سب سے پہلا موقع دے اس پر اس کا قرضہ اتار دیا جا ئے گا اور اس طرح گو یا ان تمام کمزور طبیعت کے آدمیوں پر رحم کیا جو ہر قوم میں پا ئے جا تے ہیں۔مگر ہزار آفرین ہے اس جماعت پر جو آنحضرت ؐ کی تعلیم سے بنی تھی کہ آپؐ کا ارشاد سن کر ایک نے بھی نہیں کہاکہ ہم آئندہ حصہ لے لیں گے بلکہ سب نے بالا تفاق کہہ دیا کہ ہم نے حضورؐ کی خاطر سب قیدیوں کو خوشی سے رہا کر دیا مگر آپؐ نے اس پر بھی احتیاط سے کام لیا اور حکم دیا کہ پھر مشورہ کر لیں ایسانہ ہو بعض کی مرضی نہ ہو اور ان کی حق تلفی ہواپنے اپنے سرداروں کی معرفت اپنے فیصلہ سے اطلاع دو۔چنانچہ جب قبائل کے سرداروں کی معرفت آنحضرت ؐکو جواب ملا تو تب آپ نے غلام آزاد کیے۔سُبْحَانَ اللہ کیسی احتیاط ہے اور کیا بے نظیر تقویٰ ہے۔آپؐ نے یہ با ت بالکل بر داشت نہ کی کہ کوئی شخص آپؐ پر یہ اعتراض کرے کہ آپؐ نے زبردستی ہوازن کے غلام آزاد کرادیے۔اور چونکہ اس قبیلہ سے آپؐ کا رضا عی تعلق تھا اس لیے آپ نے خاص احتیاط سے کام لیا اور با ربار پو چھ کر قیدیانِ ہوازن کو آزادی دی۔سچّے مریداگر کسی شخص نے سچے مرید اور کامل متبع دیکھنے ہوں تو وہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ ؓکو دیکھے جو اپنے جان و مال کو رسول کریمؐ کے نام پر قربان کر دینے میں ذرا دریغ نہ کر تے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عضل اور قارۃ دو قبیلوں کے کچھ لو گ آنحضرت ﷺ کی خد مت میںحاضر ہو ئے اور عرض کیا کہ ہماری قوم اسلام کے قریب ہے آپؐ کچھ آدمی بھیجئے جو انہیں دین اسلام سکھا ئیں۔آپ ؐنے ان کی در خواست پر چھ صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ وہاں جا کر انہیں