انوارالعلوم (جلد 1) — Page 551
انوار العلوم جلدا ۵۵۱ سيرة النبي ال اس جگہ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آنحضرت جس قبیلہ میں پہلے تھے اور جس میں سے آپ کی دائی تھیں وہ ہوازن کی ہی ایک شاخ تھی۔ پس ایک لحاظ سے ہوازن کے قبیلہ والے آپ کے رشتہ دار تھے اور ان سے رضاعت کا تعلق تھا چنانچہ جب وفد ہوازن آنحضرت کی خدمت میں پیش ہوا تو اس میں سے ابو برقان اسعدی ( آنحضرت کی دائی حلیمہ سعد قبیلہ میں سے ہی تھیں) نے آپ کی خدمت میں عرض کیا یا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فِي هَذِهِ الْحَظَائِرِ إِلَّا أُمَّهَا تُكَ وَخَالَا تُكَ وَ حَوَاضِكَ وَ مُرْضِعًا تُكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ۔ يا رسول الله ان احاطوں کے اندر حضور کی مائیں اور خالہ اور کھلایاں اور دودھ پلائیاں ہی ہیں اور تو کوئی نہیں پس حضور " ہم پر احسان فرمائیں اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔ پس ہوازن کے ساتھ آپ کار آپ کا رضاعی تعلق تھا اور اس وجہ سے وہ اس بات کے مستحق تھے کہ آنحضرت ان کے ساتھ نیک سلوک کرتے۔ چنانچہ آپ نے اس ارادہ سے دس دن سے زیادہ تک اموال غنیمت کو مسلمانوں میں تقسیم نہیں کیا اور اس بات کے منتظر رہے کہ جو نہی ہو ا زن پشیمان ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوں اور اپنے اموال اور قیدیوں کو طلب کریں تو آپ واپس فرماویں کیونکہ تقسیم غنائم سے پہلے آپ کا حق تھا کہ آپ جس طرح چاہتے ان اموال اور قیدیوں سے سلوک کرتے خواہ بانٹ دیتے خواہ بیت المال کے سپرد فرماتے ۔ خواہ قیدیوں کو آزاد کر دیتے اور مال واپس کر دیتے مگر باوجو د انتظار کے ہوازن کا کوئی رفد نہ آیا جو اپنے اموال اور قیدیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا اس لئے مجبور ادس دن سے زیادہ انتظار کر کے طائف سے واپس ہوتے ہوئے جعرانہ میں آپ نے ان اموال اور غلاموں کو تقسیم کر دیا۔ تقسیم کے بعد ہوازن کا وفد بھی آپہنچا اور رحم کا طلبگار ہوا اور اپنا حق بھی جتا دیا کہ یہ قیدی غیر نہیں ہیں بلکہ جناب کے ساتھ کچھ رشتہ اور تعلق رکھتے ہیں اور اس خاندان کی عورتیں ان قیدیوں میں شامل ہیں جس میں کسی عورت کا حضور نے دودھ بھی پیا ہے اور اس لحاظ سے وہ آپ کی مائیں اور خالائیں اور کھلائیاں اور دائیاں کہلانے کی مستحق ہیں پس ان پر رحم کر کے قیدیوں کو آزاد کیا جائے اور اموال واپس کئے جائیں۔ تقسیم سے پہلے تو حضور ضرور ہی ان کی درخواست کو قبول کر لیتے اور آپ کا طریق عمل ثابت کرتا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی رحم کا معاملہ پیش ہوا ہے حضور سرور کائنات نے بینظیر رحم سے کام لیا۔ مگر اب یہ مشکل پیش آگئی تھی کہ اموال دقیدی تقسیم ہو چکے تھے اور جن کے قبضہ میں رہ چلے گئے تھے اب وہ ان کا مال تھا۔ اور گو وہ لوگ اپنی جان و مال کو اس حبیب خدا کی مرضی پر قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور انہوں نے