انوارالعلوم (جلد 1) — Page 550
انوار العلوم جلدا ۵۵۰ سيرة النبي مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيُّ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَا وَكُمْ أَمْرَكُمْ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَا وَهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَا۔ فَاخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيِّبُوا وَاذِنُوا - (بخاری کتاب الوکاله باب اذا و هب شيئا لوكيل ) ترجمہ :- جب وقد وند هوازن بحالت قبول اسلام آنحضرت ا کے پاس آیا آپ کھڑے ہوئے ۔ ہوازن کے ڈیپوٹیشن کے ممبروں نے آنحضرت سے سوال کیا کہ ان کے مال اور قیدی واپس کئے جائیں۔ رسول اللہ ا نے جواب میں فرمایا کہ مجھے سب سے پیاری وہ بات لگتی ہے جو سب سے زیادہ بچی ہو۔ پس میں صاف صاف کہہ دیتا ہوں کہ دونوں چیزیں تمہیں نہیں مل سکتیں۔ ہاں دونوں میں سے جس ایک کو پسند کرو وہ تمہیں مل جائے گی۔ خواہ قیدی آزاد کروالو خواہ اموال واپس لے لو۔ اور میں تو تمہارا انتظار کر تا رہامگر تم نہ پہنچے۔ اور رسول کریم طائف سے لوٹتے وقت دس سے کچھ اوپر راتیں ان لوگوں کا انتظار کرتے رہے تھے جب انہیں یہ معلوم ہو گیا کہ رسول کریم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے عرض کیا کہ اگر یہی بات ہے تو ہم اپنے قیدی چھڑوانا پسند کرتے ہیں۔ اس پر آنحضرت " مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ تعالٰی کی تعریف کرنے کے بعد فرمایا کہ سنو تمہارے ہوازن کے بھائی تائب ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میری رائے ہے کہ میں ان کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ پس جو کوئی تم میں سے یہ پسند کرے کہ اپنی خوشی سے غلام آزاد کر دے تو وہ ایسا کر دے ۔ اور اگر کوئی یہ چاہے کہ اس کا حصہ قائم رہے اور جب خدا سب سے پہلی دفعہ ہمیں کچھ مال دے تو اسے اس کا حق ہم ادا کر دیں تو وہ اس شرط سے غلام آزاد کر دے ۔ لوگوں نے آپ کا ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم نے آپ کے لئے اپنے غلام خوشی سے آزاد کر دیئے مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم تو نہیں سمجھتے کہ تم میں سے کس نے خوشی سے اجازت دی ہے اور کس نے اجازت نہیں دی۔ پس سب لوگ یہاں سے اٹھ کر اپنے خیموں پر جاؤ یہاں تک کہ تمہارے سردار تم سے فیصلہ کر کے ہمارے سامنے معاملہ پیش کریں ۔ پس لوگ لوٹ گئے اور ہر قبیلہ کے سردار نے اپنے طور پر گفتگو کی پھر سب سردار رسول اللہ اس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب لوگوں نے دل کی خوشی سے بغیر کسی عوض کی طمع کے اجازت دے اجازت دے دی ہے کہ آپ غلام آزاد فرمادیں۔