انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 549

انوار العلوم جلدا ۵۴۹ سيرة النبي الم ازاں تکلیف ہو اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بالکل خدا کا خوف نہیں کرتے مگر رسول کریم نے تم اپنے طریق عمل سے بتا دیا کہ باوجود اس کے کہ آپ حقدار تھے اور اہل مدینہ کے مہمان تھے آپ نے ان بتائی سے بغیر قیمت زمین لینے سے انکار کر دیا اور باصرار قیمت ان کے حوالہ کی۔ افسوس کہ کامل اور اکمل نمونہ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں نے اپنے عمل میں سستی کر دی ہے اور یتامی کے اموال کی قطعا کوئی حفاظت نہیں کی جاتی۔ ان کے اموال کی حفاظت تو الگ رہی خود محافظ ہی بتائی کے مال کھا جاتے ہیں اور اس احتیاط کے قریب بھی نہیں جاتے جس کا نمونہ رسول کریم نے دکھایا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ یتامی کے اموال کے لینے سے رسول کریم نے جس احتیاط سے انکار کر بنو ہوازن کے اموال دیا اور باوجود اصرار کے مسجد کے لئے بھی زمین کا لینا پسند نہ کیا وہ تو پچھلے واقعہ سے ظاہر ہے۔ اب ایک اور واقعہ اسی قسم کا لکھتا ہوں۔ ہوازن کے ساتھ جب رسول کریم اس کا مقابلہ ہوا تو ان کے بہت سے مرد اور عورتیں قید ہوئے اور بہت سا مال بھی صحابہ کے قبضہ میں آیا۔ چونکہ آنحضرت نہایت رحیم و کریم انسان تھے اور ہمیشہ اس بات کے منتظر رہتے کہ لوگوں پر رحم فرمائیں اور انہیں کسی مشقت میں نہ ڈالیں۔ آپ نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور کچھ دن تک انتظار میں رہے کہ شاید قبیلہ ہوازن کے لوگ آکر عفو طلب کریں تو ان کے اموال اور قیدی واپس کر دیئے جائیں مگر انہوں نے خوف سے یا کسی باعث سے آپ کے پاس آنے میں دیر لگائی تو آپ نے اموال و قیدی بانٹ دیئے ۔ اس واقعہ کو امام بخاری نے مفصل بیان کیا ہے۔ مسور بن مخرمہ کی کی روایت ہے - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِيْنَ جَاءَ، وَقَدْ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَى أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْعَالَ وَقَدْ كُنْتُ إِسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشَرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَاثْنَى عَلَى اللَّهِ تَعَالَى بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلَاءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْرَ أَيْتُ أَنْ أَرَدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ