انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 548

تیار کراتے اور آپ کی رہائش کے لئے بھی مکان کا بندوبست کرے اور وہ لوگ ت کو سمجھتے بھی تھےاور ہر طرح خد مت کے لئے حاضر تھے مگر چونکہ آپ کے تمام کام اللہ تعالیٰ کے سپرد تھے اور ہر ایک فعل میں آپ اسی پر اتکال کرتے تھے اس لئے آپ نے اپنی رہائش کے لئے ایسی جگہ کو پسند کیا جہاںاللہ تعالیٰ آپ کو رکھنا پسند کرے اور بجائے خود جگہ پسند کرنے کے اپنی اونٹنی کو چھوڑ دیا کہ خدا تعالیٰ جہاں اسے کھڑا کرے وہیں مسجد بنائی جائے اور وہیں رہائش کا مکان بنایا جائے۔اب جس جگہ آپ کی اونٹی کھڑی ہوئی وہ دو تیموں کی جگہ تھی اور وہ بھی آپکے خدام میں تھے اور ہر طرح آپ پر اپنا جان و مال قربان کرنے کے لئے تیار تھے اور بطور ہبہ کے وہ زمین پیش کرتے تھے مگر باوجود اس کے کہ آپ اہل مدینہ کے مہمان تھے اور والٹر کے مہمان نوازی کے ثبوت میں آپکو وہ زمین مفت دینا چاہتے تھے آپ نے اس کے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ وہ احتیاط تھی جو آپ کے تمام کاموں میں پائی جاتی تھی۔اول تو آپ یہ نہ چاہتے تھے کہ وہ نابالغ بچوں سے بغیر معاوضہ کے ز مین لیں کیونکہ ممکن تھا کہ وہ بچین کے جوش و خروش میں آپ کی خدمت میں زمین پیش کر دیئے لیکن بڑے ہو کر ان کے دل |میں افسوس ہوتا کہ اگر وہ زمین ہم نی دینے کا اس وقت ہمارے پاس ہوتی تو وو زمین یا اس کی قیمت ہمارے کام آتی اور ہماری معیشت کا سامان بھی۔اس احتیاط کی وجہ سے اس خیال سے کہ ابھی میہ بچے ہیں اور اپنے نفع و نقصان کو نہیں سمجھ سکتے آپ نے اس زمین کے مفت لینے سے بالکل انکار کردیا۔گو وہ ان کے اپنے ایمان کے ہوش میں تین تہیہ کر رہے تھے اور اگر آپ اسے قبول کر لیتے توبجائے افسوس کرنے کے وہ اس پر خوش ہوتے کیو نکہ صحابہ کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بچے بھی جوانوں سے کم نہ تھے اور چودہ پندرہ سال تک کے چھ مال تو کیا جان دینے کے لئے تیار ہو جاتے چنانچہ بدر کی جنگ میں دو ایسے بچے بھی شامل ہوئے تھے۔پس باوجود اس کے کہ وہ چکے تھے اور ابھی کم سن تھے مگر بظاہر حالات ان کے ایمانوں کے اندازہ کرنے سے کہا جاسکتاتھا کہ وہ اس پر کبھی متاسف نہ ہوں گے مگر پھر بھی رسول کریم ا نے مناسب نہ جانا کہ امکانی طور پر بھی ان کو ابتلاء میں ڈالا جائے اور اسی بات پر اصرار کیا کہ وہ قیمت وصول کریں اور اگر چاہیں تو اپنی زمین فروخت کر دیں ورنہ آپ نہیں لیں گے۔اگر آپ کے اصرار کو دیکھ کر ان بچوں اوران کے والیوں نے قیمت لے لی اور وہ زمین آپ کے پاس فروخت کر دی۔آجکل دیکھا جاتا ہے کہ بتائی سے بھی لوگ چند وصول کرتے ہیں اور بالکل اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ شاید ان کو بعد