انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 545

وار العلوم جلدا ولده سيرة النبي جب آنحضرت ا گھر تشریف لائے تو حضرت عائشہ نے جناب کو حضرت فاطمہ کی آمد کی اطلاع دی جس پر آپ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے میں نے آپ کو آتے دیکھ کر چاہا کہ اٹھوں مگر آ اٹھوں مگر آنحضرت ا نے فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر ۔ اپنی جگہ پر لیٹے رہو ۔ پھر ہم دونوں کے درمیان آکر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ کے قدموں کی خنکی میرے سینہ پر محسوس ہونے لگی۔ جب آپ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں کوئی ایسی بات : بات نہ بتا دوں جو اس چیز سے جس کا تم نے سوال کیا ہے بہتر ہے اور وہ یہ کہ جب تم اپنے بستروں پر لیٹ جاؤ تو چونتیس دفعہ تکبیر کہو اور تینتیس دفعہ سُبحان اللہ کہو اور تینتیس دفعہ الحمد للہ کہو پس یہ تمہارے لئے خادم سے اچھا ہو گا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ا اموال کی تقسیم میں ایسے محتاط تھے کہ باوجود اس کے کہ حضرت فاطمہ کو ایک خادم کی ضرورت تھی اور چکی پینے سے آپ کے ہاتھوں کو تکلیف ہوتی تھی مگر پھر بھی آپ نے ان کو خادم نہ دیا بلکہ دعا کی تحریک کی اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی متوجہ کیا۔ آپ اگر اپ اگر چاہتے تو حضرت فاطمہ کو خادم دے سکتے تھے کیونکہ جو اموال تقسیم کے لئے آپ کے پاس آتے تھے وہ بھی صحابہ میں تقسیم کرنے کے لئے آتے تھے اور حضرت علیؓ کا بھی ان میں حق ہو سکتا تھا اور حضرت فاطمہ بھی اس کی حقدار تھیں لیکن آپ نے احتیاط سے کام لیا اور نہ چاہا کہ ان اموال میں سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو دے دیں کیونکہ ممکن تھا کہ اس سے آئندہ لوگ کچھ کا کچھ نتیجہ نکالتے اور بادشاہ اپنے لئے اموال الناس کو جائز سمجھ لیتے پس احتیاط کے طور پر آپ نے حضرت فاطمہ کو ان ان غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو آر آپ کے پاس اس و اس وقت بغرض تقسیم آئیں کوئی نہ دی۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جن اموال میں آپ کا اور آپ کے رشتہ ) رشتہ داروں کا خدا تعالیٰ نے حصہ مقرر فرمایا ہے ان سے آپ خرچ فرما لیتے تھے اور اپنے متعلقین کو بھی دیتے تھے ہاں جب تک کوئی چیز آپ کے حصہ میں نہ آئے اسے قطعاً خرچ نہ فرماتے اور اپنے عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو بھی نہ دیتے۔ کیا دنیا کسی بادشاہ کی مثال پیش کر سکتی ہے جو بیت المال کا ایسا محافظ ہو ۔ اگر کوئی نظیر ملی سکتی ہے تو صرف اسی پاک وجود کے خدام میں سے۔ ورنہ دوسرے مذاہب اس کی نظیر نہیں پیش کر سکتے ۔ مذکورہ بالا واقعات سے روز روشن کی طرح ثابت ہو جاتا ہے کہ آنحضرت ا نہایت