انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 544

سمجھتے اور آنحضرت ﷺ کی پیروی اختیار کرتے جو باوجود معصوم ہو نے کے اپنے نفس پر ایسا محاسبہ رکھتے کہ ذرہ سی غفلت میں بھی نہ پڑنے دیتے اور یہ لو گ دیکھتے کہ ہم تو اپنے نفوس پر ایسے قابو یا فتہ نہیں پھر بغیر کسی حساب کے لوگوں کے اموال کو جمع کر نا ہمارے لیے کیسا خطرناک ہو گا مگر اس طر ف قطعاًتو جہ نہیں اور کل روپیہ بجائے غرباء کی خبر گیری کے اپنے ہی نفس پر خرچ کر دیتے ہیں اور جن کے لیے روپیہ جمع کیا جا تا ہے اور جن پر خرچ کر نے کا حکم اللہ تعالیٰ نے بادشاہوں کو دیا ہے ان کی کوئی خبر ہی نہیںلیتا۔آنحضرت ﷺ کا یہ فعل ہمیشہ کے لیے مسلمان بادشاہوں کے لیے ایک نمونہ ہے جس پر عمل کر نے سے وہ فلاح دارَ ین پا سکتے ہیں۔اگر رعایا کو یقین ہو جا ئے کہ ان کے اموال بے طور سے نہیں خرچ کیے جاتے تو وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازشوں کی مرتکب نہ ہومگر ہمارے بادشاہوں نے اپنے حقوق کو آنحضرت ﷺ کے حقوق سے کچھ زیا دہ ہی سمجھ لیاہے اور اپنے نفس پر آپؐ سے بھی زیا دہ بھروسہ کر تے ہیں۔حضرت فاطمہ ؓکا سوالگزشتہ سے پیوستہ ) پچھلے واقعہ سے تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ ایسے محتاط تھے کہ غرباء کا مال جب تک ان کے پا س نہ پہنچ جائے آپؐ کو آرام نہ آتا اور آپؐ کسی کے حق کے ادا کر نے میں کسی قسم کی سستی یا دیر کو روانہ رکھتے۔لیکن وہ واقعہ جو میں آگے بیان کر تا ہوں ثابت کر تا ہے کہ آپؐ اموال کی تقسیم میں بھی خاص احتیاط سے کام لیتے اور ایسا کو ئی موقع نہ آنے دیتے کہ لوگ کہیں کہ آپؐ نے اموال کو خود اپنے ہی لو گوں میںتقسیم کر دیا۔حضرت علیؓ فر ما تے ہیں اَنَّ فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا شَکَتْ مَا تَلْقٰی مِنْ اَثَرِا الرَّحَا فَاَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَبْیٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْ ہُ فَوَجَدَتْ عَائِشَۃَ فَاَخْبَرَ تْھَا فَلَمَّا جَآءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبَرَتْہُ عَائِشَۃُ بِمَجِیْیءِ فَاطِمَۃ قَالَ فَجَآءَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَیْنَا وَقَدْ اَخَذْنَا مَضَا جِعَنَا فَذَھَبْتُ لِاَ قُوْمَ قَالَ عَلیٰ مَکَا نِکُمَا فَقَعَدَ بَیْنَنَا حتّٰی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَیْہِ عَلیٰ صَدْرِیْ وَقَالَ اَلاَاُ عَلِّمُکُمَا خَیْرًا مِمَّا سَاَلْتُمَا نِیْ اِذَا اَخَذْتُمَا مَضَا جِعَکُمَاتُکّبِّرَااَرْبَعًا وَّثَلَاثِیْنَ وَتُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَتَحْمَدَ اثَلَاثَۃً وَّ ثَلَاثِیْنَ فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمَا مِنْ خَادِمٍ(بخاری کتاب المناقب باب مناقب علی بن ابی طالبؓ)حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے شکایت کی کہ چکی پیسنے سے انہیں تکلیف ہو تی ہے۔اسی عرصہ میں آنحضرت ﷺ کے پاس کچھ غلام آئے۔پس آپؓ آنحضرت ؐ کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپؐ کو گھر پر نہ پا یا اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دےکرگھرلوٹ آئیں