انوارالعلوم (جلد 1) — Page 544
انوار العلوم جلدا ولدلد سيرة النبي ہیں سمجھتے اور آنحضرت ا کی پیروی اختیار کرتے جو باوجود معصوم ہونے کے اپنے نفس پر ایسا محاسبہ رکھتے کہ ذرہ سی غفلت میں بھی نہ پڑنے دیتے اور یہ لوگ دیکھتے کہ ہم تو اپنے نفوس پر ایسے قابو یافتہ نہیں پھر بغیر کسی حساب کے لوگوں کے اموال کو جمع کرنا ہمارے لئے کیسا خطرناک ہو گا مگر اس طرف قطعا توجہ نہیں اور کل روپیہ بجائے غرباء کی خبر گیری کے اپنے ہی نفس پر خرچ کر دیتے اور جن کے لئے روپیہ جمع کیا جاتا ہے اور جن پر خرچ کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے بادشاہوں کو دیا ہے ان کی کوئی خبر ہی نہیں لیتا۔ آنحضرت ﷺ کا یہ فعل ہمیشہ کے لئے مسلمان بادشاہوں کے لئے ایک نمونہ ہے جس پر عمل کرنے سے وہ فلاح دارین پاسکتے ہیں۔ اگر رعایا کو یقین ہو جائے کہ ان کے اموال بے جا طور سے نہیں خرچ کئے جاتے تو وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازشوں کی مرتکب نہ ہو مگر ہمارے بادشاہوں نے اپنے حقوق کو آنحضرت ا کے حقوق سے کچھ زیادہ ہی سمجھ لیا ہے اور اپنے نفس پر آپ سے بھی زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ پچھلے واقعہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایسا محتاط تھے کہ غرباء کا حضرت فاطمہ کا سوال مال جبتک ان کے پاس نہ لے پاس نہ پہنچ جائے آپ کو آرام نہ آتا اور آپ کسی کے حق کے ادا کرنے میں کسی قسم کی سستی یا دیر کو روانہ رکھتے۔ لیکن وہ واقعہ جو میں آگے بیان کرتا ہوں ثابت کرتا ہے کہ آپ اموال کی تقسیم میں بھی خاص احتیاط سے کام لیتے اور ایسا کوئی موقع نہ آنے دیتے کہ لوگ کہیں کہ آپ نے اموال کو خود اپنے ہی لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ حضرت علی فرماتے ہیں اَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَئَ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدُهُ فَوَجَدَتْ عَائِشَةَ فَا خَبَرَتْهَا فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِينَ فَاطِمَة قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مُضَا جِعَنَا فَذَهَبْتُ لَا قُوْمَ قَالَ عَلَى مَكَانِكُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِى وَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا أَخَذْ تُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِّرًا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَ تُسَبِّحَا ثَلَاثًا وَ ثَلَاثِينَ وَ تَحْمَدًا ثَلَاثَةً وَ ثَلَاثِينَ ثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ ( (بخاری بخاری کتاب کتاب المنا المناقب باب مناقب علی بن بن ابي ابی طالب طالب) ) حضرت فاطمه رضی اللہ عنھا نے شکایت کی کہ چکی پینے سے انہیں تکلیف ہوتی ہے۔ اسی عرصہ میں آنحضرت کے پاس کچھ غلام آئے۔ پس آپ آنحضرت کے پاس تشریف لے گئیں لیکن آپ کو گھر پر نہ پایا اس لئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی آمد کی وجہ سے اطلاع دے کر گھر لوٹ آئیں۔