انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 28

انوار العلوم جلدا ۲۸ محبت الهی علم بھی نہ ہو تو بھی بوجہ محبت کی کشش کے وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح جب بچہ ذرا بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ محبت کے اثر سے محفوظ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اپنے ہم عمر بچوں سے محبت کا تعلق رکھتا ہے اور جب وہ کچھ اور بڑا ہوتا ہے۔ یعنی بلوغت کے قریب پہنچتا ہے تو اس وقت سے دوسرا سلسلہ محبت کا شروع ہو جاتا ہے یعنی اس کو کسی قدر عقل آجاتی ہے کہ محبت کرنے کے لائق ایک اور ہستی ہے جو کہ زمین و آسمان کی پیدا کرنے والی اور برے بھلے کی فرق کرنے والی ہے۔ پس اس وقت اگر وہ اپنی اصلاح کرتا اور صاف اور سیدھی راہ پر چلتا ہے تو آئندہ زندگی میں اس کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ راہ جو بہتوں کو بہت دشوار اور ناقابل گزر معلوم ہوتا ہے اس کے لئے ایک عمدہ آسان اور بلا خوف و خطر ہو جاتا ہے۔ پھر اسی طرح انسان جوان ہو کر بھی بہت سے تعلقات رکھتا ہے اور اس کو محبت کرنی پڑتی ہے۔ اور جب وہ بوڑھا ہوتا ہے تو تعلقات اور بھی زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ محبت بھی ترقی کر جاتی ہے۔ اور پھر بوجہ ایک لمبی عمر پانے کے بوڑھا آدمی اپنے کئی دوستوں کو چھوڑ چکا ہوتا ہے اور وہ اس سے پہلے اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ چکے ہوتے ہیں اور خواہ مخواہ اس کو وہ زمانہ جبکہ یہ اپنے دوستوں میں بیٹھتا تھا یاد آتا ہے اور محبت اس کو بیقرار کرتی ہے اور نہیں تو اپنی پچھلی عمر کی باتیں یاد آکر اس کی خدا سے محبت اور بڑھ جاتی ہے۔ کیونکہ وہ اپنے گناہوں سے ڈرتا اور پچھتاتا ہے اور اگر دوستوں کی جدائی کا داغ بھی رکھتا ہو اور کچھ صلاحیت بھی رکھتا ہو تو بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے سُبْحَانَ اللہ یعنی سب کے لئے فنا مقدر ہے اور تکلیفیں آرام کے ساتھ ضروری ہیں۔ لیکن صرف ہاں صرف ایک اللہ تعالی ہے جو ان تمام انقلابات اور فنا سے پاک ہے یا بے اختیاری میں وہ یہ کلمہ زبان پر لاتا ہے کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعونَ ) ن (البقرہ: ۱۵۷) یہ فقرہ جو کسی غم غم کے کے و وقت بولا جاتا ہے میرے خیال میں اس کے معنوں میں بھی محبت کی طرف ایک اشارہ ہے۔ یعنی جب ایک چیز جس کو ہم پسند کرتے ہیں ٹوٹ جاتی یا گم ہو جاتی ہے یا ایک شخص ہم سے جدا ہوتا ہے خواہ دائمی خواہ ایک وقت مقررہ تک کے لئے اس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم تو خدا کے لئے ہی ہیں اور ہم نے اس طرف لوٹنا ہے یعنی مناسب کے لئے ہے سوائے خدا تعالیٰ کے اور ہم بھی کسی دن انہی فنا شدہ لوگوں کی طرح فنا ہو جائیں گے ۔ لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے میں ایک محبت کا بھی اشارہ ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھلاتا ہے کہ نقصان کے وقت تم یہ پڑھا کرو اور اس میں اشارہ فرماتا ہے کہ تم تو میرے لئے ہی ہو اور میرے پاس ہی لوٹو گے اور ایک میری ہی ہستی ہے کہ جس کی محبت تم کو کچھ فائدہ دے