انوارالعلوم (جلد 1) — Page 539
ایسے خطرہ کے وقت ایک ایسے تیز گھوڑے کو لے کر چلے جا نا جو اپنی سختی میں مشہور تھا یہ بھی آپؐ کی خاص دلیری پر دلالت کر تا ہے۔تیسرا امر جو اس واقعہ کو عام جرأت کے کار ناموں سے ممتاز کر تا ہے وہ آپؐ کی حیثیت ہے۔اگر کو ئی معمولی سپا ہی کا م کرے تو وہ بھی تعریف کے قابل تو ہوگا مگر ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ افسر و بادشاہ کا فعل۔کیونکہ اس سپا ہی کو وہ خطرات نہیں جو بادشاہ کو ہیں۔اول تو سپا ہی کو مارنے یا گرفتار کر نے کی ایسی کو شش نہیں کی جا تی جتنی بادشاہ یاامیرکے گرفتار کر نے یا مارنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ اس کے مارنے یا قید کر لینے سے فیصلہ ہی ہو جا تا ہے۔دوسرے سپا ہی اگر مارا جا ئے تو چنداں نقصان نہیں بادشاہ کی موت ملک کی تبا ہی کا باعث ہو تی ہے۔پس باوجود ایک بادشاہ کی حیثیت رکھنے کے آپؐ کا اس وقت دشمن کی تلاش میں جانا ایک ایسا ممتاز فعل ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔غزوۂ حنینرسول کریم ﷺ ہی دنیا کےلیے ایک کامل نمونہ ہو سکتے ہیں کیونکہ آپؐ ہر ایک امر میں دوسرے انسانوں سے افضل ہیں اور ہر ایک نیکی میں دوسروں کے لیے رہنما ہیں۔ہر ایک پاک صفت آپؐ میں پا ئی جا تی ہے اور آپؐ کا کمال دیکھ کر آنکھیں چُندھیا جا تی ہیں اور آپؐ کے نور سے دل منور ہو جا تے ہیں۔علماء میں آپؐ سر بر آوردہ ہیں۔متقیوں میں آپؐ افضل ہیں۔انبیاء میں آپؐ سردار ہیں۔ملک داری میں آپؐ کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔جرأت میں آپؐ فردوحید ہیں۔غرض کہ ہر ایک امر میں آپؐ خاتم ہیں اور آپؐ کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔میں نے پیچھے آپؐ کی جرأت کا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ کس طرح آپؐ سب صحابہ سے پہلے خطرہ کے معلوم کر نے اور دشمن کی خبر لینے کے لیے تن تنہا چلے گئے۔اب میں ایک اَور واقعہ بیان کر تا ہوں جس سے پڑھنے والے کو خوب اچھی طرح سے معلوم ہو جا ئے گا کہ جوکرشمے بہادری اور جرأت کے آپؐ نے دکھلا ئے وہ کو ئی اَور انسان نہیں دکھا سکتا۔جو لوگ جنگ کی تا ریخ سے واقف و آگاہ ہیں وہ جا نتے ہیں کہ دشمن کا سب سے زیا دہ زور افسروں اور جرنیلوں کو نقصان پہنچانے پر خرچ ہو تا ہے اور سب سے زیا دہ اسی بات کی کوشش کی جا تی ہے کہ سردار لشکر اور اس کے سٹاف کو قتل و ہلاک کر دیا جائے اور یہ اصل ایسی ہے کہ پرا نے زمانہ سے اس پر عمل ہو تا چلا آیا ہے بلکہ پرانے زمانہ میں تو جنگ کا دارومدار ہی اس پر تھا کہ افسر کو