انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 530 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 530

آٓتی ہے کہ مما لَا عَیْنٌ رَأَتْ وَلَا اُذُنٌ سَمِعَتْ۔لیکن باوجود اس بات کے پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ اللہ تعالیٰ مشقت اٹھانےسے حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے انسان اپنی عمر کو را ئیگاں کر دیتے ہیں اور کسی اعلیٰ درجہ پر نہیں پہنچتے۔اہل ہنود میں ایسے لوگ پا ئے جا تے ہیں کہ جو اپنے ہاتھ سکھا دیتے ہیں۔ایسے بھی پا ئے جا تے ہیں کہ جو سردیوں میں پا نی میں کھڑے رہتے ہیں اور گر میوں میں اپنے اردگرد آگ جلا کر اس کے اندر اپنا وقت گزارتےہیں۔ایسے بھی ہیں کہ جو سا را دن سورج کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتے رہتے ہیں اور جدھر سورج پھرتا جا ئے ان کی نظر اس کے سا تھ پھرتی جا تی ہے۔پھرایسے بھی ہیں جو نجاست اورگندگی کھا تے ہیں مردوں کا گو شت کھاتے ہیں۔غرض کہ طرح طرح کی مشقتوں اور تکالیف کو برداشت کرتے ہیں اور ان کام منشا یہی ہو تا ہے کہ وہ خدا کو پا لیں لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ لوگ بجا ئے رو حانیت میں تر قی کرنےکے اور گرتے جاتے ہیں۔مسیحیوں میں بھی ایک جماعت پادریوں کی ہے جو نہانے سے پر ہیز کر تی ہے۔نکاح نہیں کر تی۔صوف کے کپڑے پہنتی اور بہت اقسام طیبات سے محترز رہتی ہے لیکن اسے وہ نور قلب عطا نہیں ہو تا جس سے سمجھا جا ئے کہ خدا تعالیٰ انہیں حاصل ہو گیا بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق عام مسیحیوں کی نسبت گرے ہوئے ہو تے ہیں۔مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سا راسال روزہ رکھتے ہیں اور ہمیشہ روزہ سے رہتے ہیں حالانکہ رسول کریم ﷺ نے دا ئمی رو زے رکھنے سے منع فرما یا ہے پھر بعض لوگ طیبات سے پر ہیز کر تے ہیں۔اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقتوں میں ڈالتے ہیں لیکن پھر بھی کو ئی کمال حاصل نہیں ہو تا۔غرض کہ جس طرح بغیر محنت و کوشش کے خدا تعالیٰ نہیں ملتا اسی طرح اپنے نفس کو بلا فا ئدہ مشقت میں ڈالنے سے بھی خد انہیں ملتا بلکہ الٹانقصان پہنچ جا تا ہے۔میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں کہ جنہوں نے اول اول تو شوق سے سخت سے سخت محنت اٹھا کر بعض عبادات کو بجا لا نا شروع کیا اور اپنے نفس پر وہ بوجھ رکھاجسےوہ برداشت نہیں کرسکتا تھا اور آخر تھک کر ایسے چُور ہو ئے کہ عبادات تو کجاخدا تعالیٰ کی ہستی سے ہی منکر ہوگئے اور کہنے لگے کہ اگر کوئی خدا ہو تا تو ہماری ان محنتوں کو ضا ئع کیوں کرتا ہم تو اس کوشش و محنت سے ورد وظائف کر تے رہےلیکن وہاں سے ہمیں کچھ اجر بھی نہیں ملا اور آسمان کے دروازے چھوڑ آسمان کی کو ئی کھڑکی بھی ہمارے لیے نہیں کھلی۔اور جب یہ شکوک ان کے دلوں میں پیدا ہو نے شروع ہو ئے تو وہ گناہوں پر دلیر ہو گئے اور وعظ وپند کو بنا وٹ سمجھ لیا اور خیال کر لیا کہ ہم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں وہ بھی