انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 529

انوار العلوم جلد ! ۵۲۹ سيرة النبي رہی سنتے اور دیکھتے ہیں جو ان کے ارد گرد ہوتا ہے۔ اگر ارد گرد ظلمت کے سامان ہی نہ ہوں اور بدی کی تحریک اور میلان پیدا کرنے والے ذرائع ہی مفقود ہوں تو پھر انہوں نے دل پر کیا خراب اثر ڈالنا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اللَّهُمَّ اجْعَلَ عَنْ يَمِينِي نُورًا وَيَسَارِي نُورًا وَفَوْقِى نُورًا وَتَحْتِى نُورًا وَمَا مِي نُورًا وَأَمَا مِن نُورًا وَ خَلْفِى نُورًا (بخاری کتاب) اب الدعوات باب الدعاء ان عاء ا ذ ا نتبه من الليل ، أى اللہ میری بینائی اور شنوائی کو نور سے منور کر کے یہ بھی کر کہ میرے دائیں بائیں ، آگے پیچھے ، اوپر نیچے جہات ستہ میں نور ہی نور ہو جائے اور جن باتوں سے آنکھوں اور کانوں کے ذریعہ دل پر برا اثر پڑتا ہے وہی میرے ارد گرد سے فنا ہو کر ان کی بجائے تقویٰ اور طہارت کے پیدا کرنے والے نظارے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیں۔ پھر اس خیال سے کہ پوشیدہ در پوشیدہ ذرائع سے بھی دل ملوث ہوتا ہے۔ فرمایا کہ واجْعَلْ لى نورا میرے لئے نور کے دروازے کھول دے ظلمت سے میرا کچھ تعلق ہی نہ رہے نور ہی سے میرا واسطہ ہو اس دعا کو پڑھ کر ہر ایک تعصب سے کو را آدمی سمجھ سکتا ہے کہ آنحضرت ابدیوں سے کیسے متنفر تھے۔ بہت سے انسان اپنی حماقت سے بجائے فائدہ کے الٹا نقصان کر لیتے ہیں شفقت على النفس اور اپنے نزدیک جسے خوبی سمجھتے ہیں وہ در اصل برائی ہوتی ہے اور اس پر عامل ہو کر تکلیف اٹھاتے ہیں۔ بہت سے لوگ دیکھے جاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کو خواہ مخواہ کی مشقت میں ڈال کر تکلیف دیتے ہیں اور اسے فخر سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ایک ذریعہ جانتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنا کوئی آسان امر نہیں پہلے انسان پوری طرح سے اپنے نفس کو مارے اور اپنے ہر فعل اور قول کو اس کی رضا کے مطابق بنائے اپنی خواہشات کو اس کے لئے قربان کر دے ۔ اپنی آرزوؤں کو اس کے منشا کے مقابلہ میں مٹادے۔ اپنے ارادوں کو چھوڑ دے ۔ اس کی خاطر ہر ایک دکھ اور تکلیف اٹھانے کو تیار ہو جائے۔ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی خاک عظمت نہ سمجھے اور جس چیز کے قرب سے اس سے دوری ہوا سے ترک کر دے۔ اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچائے تب ہی انسان خدا تعالی کے فضل کو حاصل کر سکتا ہے اور جب اس کا فضل نازل ہو تو اس کی رحمت کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور وہ ان اسرار کا مشاہدہ کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کے راہمہ میں بھی نہیں آتے تھے اور یہ حالت انسان کے لئے ایک جنت ہوتی ہے جسے اسی دنیا میں حاصل کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا ایسے ایسے رنگ میں مطالعہ کرتا ہے کہ عقل حیران ہو جاتی ہے اور جنت کی تعریف ان کشوف پر صادق