انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 527

انوار العلوم جلد ! ۵۲۷ سيرة النبي ال ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے کام انسان عاد تا کرتا ہے یا فطر تا بعض کاموں کی طرف راغب ہوتا ہے اور بعض سے بچتا ہے بہت سے لوگ دنیا میں دیکھے جاتے ہیں کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے یا چوری نہیں کرتے۔ اور ان کے جھوٹ سے بچنے یا چوری نہ کرنے کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ وہ جھوٹ سے دل میں سخت متنفر ہیں یا چوری کو برا جانتے ہیں بلکہ ان کا یہ کام صرف ان کی نیک فطرت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ صرف عادت کے نہ ہونے کی وجہ سے ان بدیوں سے بیچنے نہیں ، اگر ان کی عادت انہیں ڈال دی جائے تو وہ ان افعال کے مرتکب بھی ہو جائیں۔ ایسا ہی بعض لوگ ۔ دیکھے جاتے ہیں کہ کسی نہ کسی وجہ سے رحم مادر سے ہی ان کے غصہ یا غضب کی صفت میں ضعف آچکا ہوتا ہے اور وہ باوجود سخت سے سخت اسباب طیش انگیز کے کبھی اظہار غضب نہیں کر تے بلکہ ان کا دل غیرت و حیا کے جذبات سے بالکل خالی ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ لوگ اگر چہ نرم دل کہلائیں گے لیکن ان کا غضب سے بچنا ان کی صفات حمیدہ میں سے نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ یہ ان کا کمال نہیں بلکہ قدرت نے ہی انہیں ان جوشوں سے مبرا رکھا ہے۔ لیکن ایک ایسا انسان جو غضب سے صرف اس وجہ سے بچتا ہے کہ وہ اسے برا جانتا ہے اور رحم سے محبت رکھتا ہے اور باوجود اس کے کہ اسے طیش دلایا جائے اپنے جوشوں کو قابو میں رکھتا ہے وہ تعریف کے لائق ہے اور پھر وہ شخص اور بھی قابل قدر ہے کہ جس کے افعال اس سے بالا رادہ سرزد ہوتے ہیں نہ خود بخود۔ رسول کریم کا اپنے لئے اللہ تعالٰی سے یہ دعا مانگنا کہ یا اللہ مجھے ظلمت سے بچا کر نور کی طرف لے جا اور بدی سے مجھے بچالے ثابت کرتا ہے کہ آپ کا بد کلامی یا بد اخلاقی سے بچنا اس تقویٰ کے ماتحت تھا جس سے آ۔ ماجس سے آپ کا دل معمور تھا اور یہی وجہ اور یہی وجہ تھی کہ آپ خدا پ خدا تعالیٰ سے دعا بھی مانگتے تھے ورنہ جو لوگ نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی فطرت کی وجہ سے بعض گناہوں سے بچے ہوئے ہوتے ہیں وہ ان سے بچنے کی دعا یا خواہش نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کے لئے ان اعمال بد کا کرنا نہ کرنا برابر ہوتا ہے اور ان سے احتراز صرف اس لئے ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ہی کسی نقص کی وجہ سے بعض جذبات میں کمی آجاتی ہے جن کے استعمال سے خاص خاص بدیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ کسی کام ۔ اس بات کے ثابت کرنے کے بعد کہ آنحضرت ا کے تمام اعمال بالا رادہ تھے اور اگر کام سے آپ بچتے تھے تو اسے برا سمجھ کر اس سے سے ۔ بچتے تھے نہ کہ عادتا اور اگر کوئی کام آپ آ۔ کرتے تھے تو اسی لئے کہ آپ اسے نیک سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ جانتے