انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 524

زندگی کے حالات سے کون نہیں واقف،مدینہ کے ابتدائی ایام سے کون بے خبر ہے،کن شدائد کا آپؐ کو سامنا ہوا،کن مشکلات سے پا لا پڑا، دوست دشمن ناراض تھے۔رشتہ دار جواب دے بیٹھے،اپنے غیروں کی نسبت زیادہ خون کے پیاسے ہو رہے تھے ،ملنا جلنا قطعاً بند تھا،ایک وادی میں تین سال محصو ررہنا پڑا،نہ کھانے کو نہ پینے کو،جنگل کے درخت اور بوٹیاں غذا بنیں ،شہر میں آنا منع ہو گیا،پھر چمکتی ہو ئی تلواریں ہر وقت سامنے نظر آتی تھیں،رؤ ساء سے قیام امن کی امید ہو تی ہے وہ بھی مخالف ہوگئے،بلکہ نوجوانوں کو اور اکسا اکسا کر دکھ دینے پر مائل کر تے رہے،باہر نکلتے ہیں تو گالی گلوچ تو کچھ چیز ہی نہیں پتھروں کی بوچھاڑ شروع ہو جا تی ہے،اپنے رب کے حضور گرتے ہیں تو اونٹ کی اوجھڑی سر پر رکھ دی جا تی ہے،حتّٰی کہ وطن چھوڑ دیتے ہیں۔پھر وطن بھی وہ وطن جس میں ہزاروں سال سے قیام تھا،اپنے جدا مجد کے ہاتھوں سے بسایا ہوا شہر جس کو دنیا کے ہزاروں لالچوں کے باوجود آباء واجداد نے نہ چھوڑ ا تھا،ایک شریروں اور بدمعاشوں کی جماعت کے ستانے پر چھوڑنا پڑتا ہے،مدینہ میں کو ئی راحت کی زندگی نہیں ملتی بلکہ یہاں آگے سے بھی تکلیف بڑھ جا تی ہے،ایک طرف منافق ہیں کہ خود آپؐ کی مجلس میں آکر بیٹھتےہیں اور بات بات پر سنا سنا کر طعنہ دیتے ہیں،آپؐ کے سامنے آپؐ کے خلاف سر گو شیاں کرتے ہیں۔ممکن سے ممکن طریق پر ایذاءدیتے ہیں اور پھر جھٹ تو بہ کرکے عفو کے طالب ہو تے ہیں،اپنے مہربان اہل وطن مکہ سے اخراج کے منصوبوں پر ہی کفایت نہیں کر تے جب دیکھتے ہیں کہ جسے ہم تباہ کر نا چاہتے تھے ہمارے ہا تھوں سے نکل گیا ہے اور اب ایک اور شہر میں جا بسا ہے تو وہاں بھی پیچھا کر تے ہیں، آس پاس کے قبیلوں کو اکساتے ہیں،اور اپنے سا تھ شریک کرکےدگنی طاقت سے اسے مٹانا چاہتے ہیں،یہودونصاریٰ اہل کتاب تھے ان پر کچھ امید ہو سکتی تھی وہ بغض و حسد کی آگ میںجل مرتے ہیں اور اُمّی اور مشرک اقوام سےبھی زیادہ بغض و عنا دکا اظہار کرتے ہیں،پڑھے ہوؤں کی شرارتیں بھی کہتے ہیں پڑھی ہو ئی ہوتی ہیں انہوں نے نہ صرف خود مقابلہ شروع کیابلکہ دور دور تک آپؐ کی مخالفت کا بیج بو نا شروع کیا نصاریٰ بد حواس ہو کر قیصر روم کی چوکھٹ پر جبین نیاز گھسنے گئے تو یہود اپنی سا زشوں کے پیٹھ ٹھونکنے والے ایرانیوں کے دربار میں جا فریادی ہو ئے کہ للہ اس اٹھتی ہو ئی طاقت کو دباؤ کہ گو بظاہر معمولی معلوم ہو تی ہے مگر انداز کہے دیتے ہیں کہ چند ہی سال میں تمہارے تختوں کو الٹ دے گی اور عنان حکومت تمہارے ہا تھوں سے چھین لے گی۔یہ سب ستم و قہر کس پر تھے ایک ایسے انسان پر جو دنیا کی اصلاح اور ترقی کے سوا کو ئی اور مطلب ہی نہ رکھتا تھا جس کے کسی گوشۂ