انوارالعلوم (جلد 1) — Page 517
نہیں ہوتا کہ ایک محبت کا در یا اس کے سینہ میں بہہ رہا تھا اور عشق کی آگ اس کے اندر بھڑک رہی تھی۔کیاخدا تعالیٰ کے ذکر پر یہ حالت اور پھر ایسے بہادر انسان کی جو کسی بشر سے خائف نہ تھا اس بات پردلالت نہیں کرتی کہ خدا تعالیٰ کی محبت نے آپ کے روئیں روئیں میں دخل کیا ہوا تھا اور خدا تعالیٰ کا ذکر آپ کی غذا ہو گیا تھا اور اس کا جلال اور اس کی عظمت آپ کے سامنے ہر وقت موجو درہتی تھی اور اپنے مولا کا ذکر سنتے ہی آپ بے چین ہو جاتے۔کلام الہٰی آپ کی تسلی کا باعث تھا اوریہی آپ کے عشق کو تیز کرتا اور آپ اپنے پیارے کو یاد کر کے بے اختیار ہو جاتے آپ بڑی شان کے آدمی تھے اور خدا تعالیٰ سے جو آپ کو تعلق تھاوہ اور کسی انسان کو حاصل نہیں ہوا لیکن پھر بھی جب آپ خدا تعالیٰ کی ملا قات کو یاد کرتے اور قیامت کا نظارہ آپ کی آنکھوں کے آگے آتاتو باوجود ایک مضبوط دل رکھنے کے آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے۔اخلاص باللہ۔شرک سے نفرتایک خاص بات جو رسول کریمؐ کی زندگی میں دیکھی جاتی ہے اور جس میں کو ئی نبی اور ولی آپؐ کا مقابلہ نہیں کر سکتا بلکہ آپؐ کے قریب بھی نہیں پہنچتا وہ آپؐ کا شرک سے بیزار ہو نا ہے۔ہمارا یقین ہے کہ کل انبیاء شرک سے بچانے کے لیے دنیا میں آئے اور بلا استثناء ہر ایک نبی کی تعلیم یہی تھی کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا جا ئے خواہ کو ئی نبی ہندوستان میں،جو شرک و بت پر ستی کا گھر ہے پیدا ہوا یا مصر میں جو رب الارباب کے عقیدہ کا مرکز تھا ظاہر ہوا، آتش پر ستان ایران میں جلوہ نما ہوا یا وادی کنعان میں نور افشاں ہوا یہ بات سب میں پائی جاتی ہے کہ وہ شرک کو بیخ وبن سے اکھیڑنے کے درپے رہے اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہی تھا کہ خدا تعالیٰ کو ایک سمجھا جائے اور ا س کی ذات یا صفات یا اسماء میںکسی کو اس کا شریک نہ سمجھا جا ئے نہ بنایا جا ئےوَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَآاِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(الانبیاءآیت 26)اور ہم نے نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کو ئی رسول مگر اس کی طرف وحی کی کہ کو ئی معبود نہیں مگر اللہ پس میری عبادت کرو۔یُنَزِّلُ الْمَلٓئِکَۃَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ عَلیٰ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ اَنْ اَنْذِرُوْااَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ الَّا اَنَا فَاتَّقُوْنِ (النحل آیت:3)اللہ تعالیٰ اپنے کلام کے سا تھ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر پسند کر تا ہے اتارتا ہے لوگوں کو ڈراؤ کہ سوائے میرے کوئی معبود نہیں پس میرا تقویٰ اختیار کرو۔ان آیات کی بناپر ہم ایمان لا ئے ہیں کہ سب انبیاء کا مشترکہ مشن اشاعت تو حید اور تخریب