انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 515

3 انوار العلوم جلدا ۵۱۵ سيرة النبي بادشاہ تھا اور ہزاروں قسم کے انتظامات اس کے زیر نظر تھے لیکن اپنی وفات کے وقت اسے ان چیزوں میں سے ایک کا بھی خیال نہیں۔ نہ وہ آئندہ کی فکر کرتا ہے نہ تدابیر ملکی کے متعلق وصیت کرتا ہے نہ اپنے رشتہ داروں نے متعلق ہدایات لکھواتا ہے بلکہ اس کی زبان پر اگر کوئی فقرہ جاری ہے تو یں یہی کہ کہ اللهُمَّ فِى الرَّفِيقِ الأَعْلَى اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الأَعلى اے میرے اللہ مجھے مجھے ، رفیق اعلیٰ میں جگہ دے اے میرے اللہ مجھے رفیق اعلیٰ میں جگہ دے۔ اس فقرہ کو ذرا ان مضطربانہ حرکات سے مقابلہ کر کے دیکھو جو عام طور سے مرنے والوں سے سرزد ہوتی ہیں کیسا اطمینان ثابت ہوتا ہے۔ کیسی محبت ہے۔ ساری عمر آپ خدا تعالیٰ کو یاد کرتے رہے اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ۔ خلوت و جلوت غرضیکہ ہر جگہ آپ کو خدا ہی خدا یاد تھا اور اس کا ذکر آپ کی زبان پر جاری تھا اور اب جبکہ وفات کا وقت آیا تب بھی بجائے کسی اور دنیاوی غرض یا مطلب کی طرف متوجہ ہونے کے خدا ہی کی یاد آپ کے سینہ میں تھی اور جن کو چھوڑ چلے تھے ان کی فرقت کے صدمہ کی بجائے جن سے ملنا تھا ان کی ملاقات کی تڑپ تھی اور زبان پر اپنے رب کا نام جاری تھا۔ ا آہ ! کیسا مبارک وہ وجود تھا۔ کیا احسان ماننے والا وہ انسان تھا۔ اس کی زندگی بہتر سے بہتر انسانوں کے لئے اسوہ حسنہ اور مہذب سے مہذب روحوں کے لئے ایک نمونہ تھی اس نے اپنے پیدا ہونے سے مرنے تک کوئی وقت اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں گزارا۔ وہ پاک وجود خدا تعالٰی میں بالکل محوہی ہو گیا تھا اور اس کی نظر میں سوائے اس وحده لا شریک خدا کے جو لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ہے اور کوئی وجود جچتا ہی نہ تھا۔ پھر بھلا جو ذکر کہ تمام عمر اس کی زبان پر رہا وفات کے وقت وہ اسے کہاں بھلا سکتا تھا۔ جو کچھ انسان ساری عمر کہتا یا کرتا رہا ہو وہی اسے وفات کے وقت بھی یاد آتا ہے۔ پھر جس کی عمر کا مشغلہ ہی یاد الہی ہو اور زندگی بھر جس کی روحانی غذا ہی ذکر الہی ہو وہ وفات کے وقت اور کسی چیز کو کب یاد کر سکتا تھا۔ مجھے میرا مولا پیارا ہے اور مجھے محمد ر محمد رسول اللہ اللہ بھی پیارا ہے کیونکہ وہ میرے مولا کا سب سے بڑا عاشق اور دلدادہ ہے اور جسے جس قدر میرے رب سے زیادہ الفت ہے مجھے بھی وہ اس قدر عزیز ہے۔ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔