انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 513

انوار العلوم جلدا ۵۱۳ سيرة النبي ال تھے ان کے ساتھ خود ہی ملاقات کرتے اور ان کے مطالبات کا جواب دیتے۔ جنگوں کی کمان بھی خود ہی کرتے ۔ صحابہ کو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے ۔ حج بھی خود تھے تمام دن جس قدر جھگڑے لوگوں میں ہوتے ان کا فیصلہ کرتے ۔ مال کا انتظام ، بیت المال کا انتظام ملک کا انتظام دین اسلام کا اجراء اور پھر جنگوں میں فوج کی کمان بیویوں کے حقوق کا ایفاء - ۔ پھر گھر کے کام کاج میں شریک ہونا یہ سب کام آپ دن کے وقت کرتے اور ان کے بجالانے کے بعد بجائے اس کے کہ چور ہو کر بستر پر جاپڑیں اور سورج کے نکلنے تک اس سے سر نہ اٹھا ئیں بار بار اٹھ کر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تحمید کرتے اور نصف رات کے گزرنے پر اٹھ کر وضو کرتے اور تن تنہا جب چاروں طرف خاموشی اور سناٹا چھایا ہوا ہوتا اپنے رب کے حضور میں نہایت عجز و نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوت قرآن شریف کرتے اور اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے حتی کہ عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا تو اس قدر تکلیف ہوئی کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ کر بھاگ جاتا کیونکہ میرے قدم اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور میری طاقت سے باہر تھا کہ زیادہ کھڑا رہ سکوں۔ یہ بیان اس شخص کا ہے جو نوجوان اور رسول کریم اس سے عمر میں کہیں کم تھا جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ آپ" کی ہمت اور جذبہ محبت ایسا تیز تھا کہ باوجود پیری کے اور دن بھر کام میں مشغول رہنے کے آ۔ آپ عبادت میں اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ جوان اور پھر مضبوط جوان: ان جن کے کام آپ کے کاموں کے مقابلہ میں پاسنگ بھی نہ تھے آپ کے ساتھ کھڑے نہ رہ سکے اور تھک کر رہ جاتے۔ یہ عبادت کیوں تھی اور کسی وجہ سے آپ یہ مشقت برداشت کرتے تھے۔ صرف اسی لئے کہ آپ ایک شکر گزار بندے تھے اور آپ کا دل خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہر وقت اس کے ذکر کرنے کی طرف مائل رہتا چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں جب آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس قدر عبادت میں کیوں مشغول رہتے ہیں تو آپ نے ہی جواب دیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ غرضیکہ جس محبت اور شوق سے آپ ذکر الہی میں مشغول رہتے تھے اور ان مشاغل کے باوجود جو آپ کو دن کے وقت در پیش رہتے تھے اس کی نظیر دنیا میں اور کسی ہادی کی زندگی میں نہیں مل سکتی اول تو میں دعوی کرتا ہوں کہ اگر دنیا کے دیگر ہادیان کے اشغال کا آپ کے اشغال سے مقابلہ کیا جائے تو ان کے اشغال ہی آپ کے مقابلہ میں بہت کم نکلیں گے لیکن اس فرق کو نظر انداز کر کے لو