انوارالعلوم (جلد 1) — Page 513
تھے ان کے سا تھ خود ہی ملاقات کرتے اور ان کے مطالبات کا جواب دیتے۔جنگوں کی کمان بھی خود ہی کرتے۔صحابہؓ کو قرآن شریف کی تعلیم بھی دیتے۔جج بھی خود تھے تمام دن جس قدر جھگڑے لوگوں میں ہو تے ان کا فیصلہ کرتے۔عمّال کا انتظام ، بیت المال کا انتظام،ملک کا انتظام،دین اسلام کا اجرا او رپھرجنگوں میں فوج کی کمان، بیویوں کے حقوق کا ایفا۔پھر گھر کے کام کاج میں شریک ہو نا یہ سب کام آپ دن کے وقت کر تے اور ان کے بجالانے کے بعد بجائے اس کے کہ چُور ہو کر بستر پر جا پڑیں اور سورج کے نکلنے تک اس سے سر نہ اٹھائیں بار بار اٹھ کر بیٹھ جا تے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے تحمید کر تے اور نصف رات کے گزرنے پر اٹھ کر وضو کرتے اور تن تنہا جب چاروں طرف خاموشی اور سناٹا چھایا ہواہو تا اپنے رب کے حضور میں نہایت عجزو نیاز سے کھڑے ہو جاتے اور تلاوت قرآن شریف کرتے اور اتنی اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہو جا تے حتّٰی کہ عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیںکہ ایک دفعہ میں بھی آپ کےساتھ نماز پڑھنے کھڑا ہو گیا تو اس قدر تکلیف ہو ئی کہ قریب تھا کہ میں نماز توڑ کر بھاگ جا تا کیونکہ میرے قدم اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتے تھےاو رمیری طاقت سے باہر تھا کہ زیادہ کھڑا رہ سکوں۔یہ بیان اس شخص کا ہے جو نوجوان اور رسول کریمﷺ سے عمر میں کہیں کم تھا جس سے سمجھ میںآسکتا ہے کہ آپؐ کی ہمت اور جذبہ محبت ایسا تیز تھا کہ باوجود پیری کے اور دن بھر کام میں مشغول رہنے کے آپؐ عبادت میں اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ جو ان اور پھر مضبوط جوان جن کے کام آپ کے کاموں کے مقابلہ میں پاسنگ بھی نہ تھے آپ کے سا تھ کھڑے نہ رہ سکے اور تھک کر رہ جا تے۔یہ عبادت کیوں تھی اور کس وجہ سے آپؐ یہ مشقت برداشت کر تے تھے۔صرف اسی لیے کہ آپ ایک شکر گزار بندے تھے اور آپ کا دل خدا تعالیٰ کے احسانات کو دیکھ کر ہر وقت اس کے ذکر کرنے کی طرف مائل رہتا چنانچہ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں جب آپ ؐ سے سوال کیا گیا کہ آپ اس قدر عبادت میں کیوں مشغول رہتے ہیں تو آپؐ نے یہی جواب دیا کہ کیا میں خدا تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ غرضیکہ جس محبت اور شوق سے آپ ذکر الہٰی میں مشغول رہتے تھے اور ان مشاغل کے باوجود جو آپ کو دن کے وقت در پیش رہتے تھے اس کی نظیر دنیا میں اور کسی ہادی کی زندگی میں نہیں مل سکتی اول تو میں دعویٰ کر تا ہوں کہ اگر دنیا کے دیگر ہادیان کے اشغال کا آپ کے اشغال سے مقابلہ کیا جائے تو ان کے اشغال ہی آپ کے مقابلہ میں بہت کم نکلیں گے لیکن اس فرق کو نظر انداز کرکے