انوارالعلوم (جلد 1) — Page 502
انوار العلوم جلدا ۵۰۲ سيرة النبي رہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت مجھے وہ نظارہ دکھایا گیا تھا جو میں نے دیکھا اور یہ ثابت ہیں میری طرف سے تجھے جواب دیں گے پھر آپ وہاں سے چلے گئے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ رسول اللہ نے کیا فرمایا ہے کہ میں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت وہ نظارہ دکھایا گیا تھا جو میں نے دیکھا اس پر مجھے حضرت ابو ہریرہ نے بتایا کہ رسول کریم نے فرمایا تھا کہ ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے دونوں ہاتھوں میں دو کڑے ہیں جو سونے کے ہیں ان کا ہونا مجھے کچھ نا پسند سا معلوم ہوا اس پر مجھے خواب میں وحی نازل ہوئی کہ میں ان پر پھونکوں جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے ۔ پس میں نے تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہوں گے جو میرے بعد نکلیں گے ایک تو عنسی ہے اور دو سرا مسیلمہ - اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ا کو خدا تعالیٰ پر کیسا یقین تھا اور آپ خدا تعالی کی مدد پر کیسے مطمئن تھے۔ آپ کے چاروں طرف کافروں کا زور تھا جو ہر وقت آپ کو دکھ دیتے اور ایذاء پہنچانے میں مشغول رہتے تھے اور جن جن ذرائع سے ممکن ہو تا آپ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ قیصر و کسری بھی اپنے اپنے حکام کو آپ کے مقابلہ کے لئے احکام پر احکام بھیج رہے تھے بنی غسان لڑنے کے لئے تیاریاں کر رہے تھے ایرانی اس بڑھتی ہوئی طاقت کو حسد و حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ہر ایک حکومت اس نئی تحریک پر شک و شبہ کی نگاہیں ڈال رہی تھی۔ ایسے وقت میں جب تک ایک لشکر جرار آنحضرت کے ارد گرد جمع نہ ہوتا آپ کے لئے اپنے دشمنوں کی زد سے بچنا بظاہر مشکل بلکہ نا ممکن نظر آتا تھا مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی فتوحات نے آپ کو ہر ایک آس پاس کی حکومت کے مد مقابل کھڑا کر دیا تھا اور دور ہیں نگاہیں ابتداء امر میں ہی اس بڑھنے والی طاقت کو تباہ کر دینے کی فکر میں تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ طاقت اگر اور زیادہ بڑھ گئی تو ہمارے بڑے بڑے قصور محلات کی اینٹ سے اینٹ بجادے گی پھر آنحضرت ان عظیم الشان مظاہروں کے مقابلہ کے لئے جو کچھ بھی تیاری کرتے کم تھی۔ انسانی عقل ایسی حالت میں جس طرح دوست و دشمن کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی ہے اور جن جن تدابیر سے غیروں کو بھی اپنے اندر شامل کرنا چاہتی ہے وہ تاریخ کے پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ لیکن وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔ بڑھتے ہوئے لشکر اور دوڑتے ہوئے گھوڑے۔ اٹھتے ہوئے نیزے اور چمکتی ہوئی تلواریں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں وہ ملائکہ آسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زم تھا اور زمین و آسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام