انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 24

انوار العلوم جلد 1 ۲۴ محبت الهی محبت کی آگ جب خدا کی مرضی کے مطابق بھڑکائی جاتی ہے تو گو کہ اس کا کمال یہی ہے کہ اس کو جو محبت کی آگ کو اپنے دل میں بھڑکا رہا ہے خاک کر دے۔ لیکن میں سچ کہتا ہوں کہ وہ خاک بھی پھر خاک شفا بن جاتی ہے۔ جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے ۔۔ عشق مولا جو کرے شمع صفت جلوہ گری -- خاک ہو جائے جو پروانہ تو بن جائے پری یعنی اگر خدا تعالیٰ کا عشق شمع کی طرح لوگوں پر ظاہر ہو تو اس وقت وہ لوگ جو اس سے محبت کرنے والے ہیں گو کہ پروانہ کی طرح اس پر فدا ہو جائیں اور اس میں یعنی محبت کی آگ میں جل کر خاک ہو جائیں پھر بھی وہ جلنے کے بعد بجائے پر دانہ کے پری ہو جائیں گے۔ یعنی پروانہ تو ایک ناچیز کیڑا ہے اسی طرح انسان بھی ایک ناچیز کیڑے سے زیادہ نہیں لیکن جب خدا کی محبت کو اپنے دل میں بھڑکاتا ہے اور اس میں جل جاتا ہے تو اس وقت خدا اس کو پری کا درجہ دے دیتا ہے (پری ایک خیالی مخلوق ہے کہ لوگوں نے اس قدر خوبصورت متصور کیا ہے کہ کوئی اور مخلوق اس کے برابر حسین اور خوبصورت نہیں ہے) یعنی وہ لوگ پھر اس قدر عالی مرتبہ اور حسین ہو جاتے ہیں کہ خلقت ان پر ٹوٹی پڑتی ہے اور وہ عشق الہی کی آگ میں خاک ہو کر خاک شفا ہو جاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ان کو خدا تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ ” بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت سے ڈھونڈیں گے"۔ وہ وقت کیا عظیم الشان وقتہ الشان وقت ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہے کیونکہ اس وقت وہ گمنامی کے گڑھے ایک دم شہرت کے اونچے ٹیلے پر بٹھائے جاتے ہیں پس دنیا دیکھ لیتی ہے کہ یہ ہے اس محبت کا انجام جو کہ اس نے خدا سے کی تھی۔ چونکہ خدا تعالیٰ اپنے محبت کرنے والے کو کبھی نہیں چھوڑتا اس لئے وہ روز بروز ایسے شخص کو ترقی دیتا اور اس کے تابعداروں کے حلقہ کو روز بروز بڑھاتا جاتا ہے اس وقت اگر چہ وہ شخص تنہائی چاہتا ہے اور خلوت کو پسند کرتا ہے۔ لیکن لوگ جوق در جوق اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کو ہر وقت گھیرے رہتے ہیں اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اس نے خدا کے لئے اپنے عزیز و اقارب کو چھوڑا تھا۔ اور ہر وقت یاد الہی میں مشغول رہتا تھا۔ پس خدا اس گمنامی کا بدلہ جو اس شخص نے اس کے لئے اختیار کی تھی اس طرح دیتا ہے کہ روز بروز اس کی شہرت کو زیادہ کرتا ہے اور وہ جو اس کے مخالف ہوتے ہیں انہیں تباہ کرتا ہے اور اس وقت وہ شخص جو برسوں خدا کی محبت میں دن گزار تا رہا ہے خدا کا محبوب ہو جاتا ہے اور کیا ہی اچھا ہے وہ شخص جو کہ محبت اس سے کرتا ہے جو دائمی ہے اور جو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے چاہنے والے کو بدلہ دے اور جو ہمیشہ رہنے والا ہے اور جو کل صفات سے موصوف ہے بہ نسبت اس شخص کے جو محبت اس سے