انوارالعلوم (جلد 1) — Page 500
ہاں بعض لوگوں کو خیال ہو تا ہے کہ ہماری بیویاں اور اولاد خود دولت مند ہیں۔ہمیں ان کے گزارہ کی کچھ فکر نہیں مگر یہاں یہ معاملہ بھی نہ تھا آپؐ کی بیویوں کی کو ئی ایسی جائیداد الگ موجود نہ تھی کہ جس سے وہ اپنا گزارہ کر سکیں نہ ہی آپؐ کی اولاد آسودہ حال تھی کہ جس سے آپ بے فکر ہوں ان کے پاس کو ئی جائیداد کو ئی روپیہ کو ئی مال نہ تھا کہ جس پر دنیا سے بے فکر ہو جا ئیں ایسی صورت میں اگر آپؐ ان لو گوں کے لیے خود کو ئی اندوختہ چھوڑ جا تے تو کسی شریعت کسی قانون انسا نیت کے خلاف نہ ہوتا اور دنیا میں کسی انسان کا حق نہ ہو تا کہ وہ آپؐ کے اس فعل پر اعتراض کر تا لیکن آپؐ ان جذبات اور خیالات کے ماتحت کا م نہیں کر تے تھے جو ایک معمولی آدمی کے دل میں موجزن ہو تے ہیں۔آپؐ کے محسوسات اور محرکات ہی اَور تھے آپؐ نے خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا اور اس کے فضلوں کی وسعت کو جا نتے تھے۔آپؐ کو یقین تھا کہ میں اپنے پیچھے اگر مال چھوڑ کر نہیں جا تا تو کچھ حرج نہیں میری وفات کے بعدمیرے پسماندگان کا ایک نگران ہے جس پر کبھی موت نہیں آتی، جو کبھی غافل نہیں ہو تا، جو اپنے پیاروں کو ان کی مصیبتوں کے وقت کبھی نہیں چھوڑتا، جو ان کی ہرضرورت کو پورا کر نے کے لیے تیار رہتا اور ضرورتوں کے پیدا ہو نے سے پہلے ان کے پورا کرنے کے سامان کر دیتا ہے خدا تعالیٰ کے وسیع خزانوں کو دیکھتے ہوئےآپؐ اس بات کو ایک سیکنڈ کے لیے پسند نہیں کر سکتے تھے کہ اپنے پسماند گان کے لیے خود کو ئی سامان کر جا ئیںخدا پر آپ کو توکل تھا اور اس پر بھروسہ کر تے تھے اور یہ وہ توکل کا اعلیٰ مقام ہی تھا کہ جس پر قائم ہو نے کی وجہ سے دنیاداروں کے خلاف آپؐ کی تو جہ بجائے دنیاوی ساما نوںکے آسمانی اسباب پر پڑتی تھی۔مسیلمہ کا دعویٰجیسا کہ میں پہلے ثابت کر آیاہوں رسول کریم ؐ کو کسی کام میں بھی دنیا اور اہل دنیا کی طرف تو جہ نہ تھی اور ارضی اسباب کی طرف آپؐ آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھتے تھے بلکہ ہر کا م میں آپ کی نظر خدا تعالیٰ ہی کی طرف لگی رہتی کہ وہی کچھ کرے گا گو یا کہ توکل کا ایک کامل نمونہ تھے جس کی نظیر نہ پہلے انبیاء میں ملتی ہے نہ آپؐ کے بعد آپؐ کے سے تو کل والا کو ئی انسان پیدا ہوا ہے۔مسیلمہ کے نام سے سب مسلمان واقف ہیں اس شخص نے رسول کریم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکرؓ کی خلافت میں سخت مقابلہ کیا تھا۔اگر چہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہی یہ شخص نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا تھا مگر مقابلہ اور جنگ حضرت ابوبکر ؓکے لشکر ہی سے ہوا اور ان ہی ا فواجِ قاہرہ نے اس