انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 495

حالت میں بھی اس وقت خوف نہ کر تا لیکن اگر کو ئی ایسا جری انسان ہو بھی جو ایسے وقت میں اپنی جان کی پروا نہ کرےاوربے خوف بیٹھا رہے اور سمجھ لے کہ اگر دشمن نے پکڑ بھی لیا تو کیا ہوا آخر ایک دن مرنا ہے تو بھی یہ امر بالکل فطرت انسانی کے مطابق ہو گا کہ ایسا آدمی جو ایسے مقام پر ہو کم سے کم یہ یقین کر لے کہ یہ لوگ ہمیں دیکھ ضرور لیں گے کیونکہ عین سرے پر پہنچ کر اور ایسی یقینی شہادت کے باوجود غار میں نظر بھی نہ ڈالنا بالکل اسباب کے خلاف ہے۔مگر ہمارا رسول ؐ (فداہ ابی وامی )کیا کر تا ہے؟حضرت ابوبکرؓ فرماتے ہیںکُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْغَارِ فَرَفَعْتُ رَأْسِیْ فَاِذَا اَنَا بِاَقْدَامِ الْقَوْمِ فَقُلْتُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ لَوْ اَنَّ بَعْضَھُمْ طَاْطَاَ بَصَرَہٗ رَاٰنَا قَالَ اُسْکُتْ یَا اَبَا بَکْرٍ اِثْنَانِ اَللّٰہُ ثَالِثُھُمَا(بخاری جلد اول کتاب المناقب باب ھجرۃ النبی صلعم واصحابہ الی ا لمدینۃ)میں رسول کریم ﷺ کے سا تھ غارمیں تھا میں نے اپنا سراٹھا کر نظر کی تو تعاقب کر نے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریمؐ سے عرض کیا یا رسولؐ اللہ ! اگر کو ئی نظر نیچی کرے گا تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپؐ نے جواب میں ارشاد فر ما یا۔چپ اے ابی بکر۔ہم دو ہیں ہمارے سا تھ تیسرا خدا ہے (پھر وہ کیونکر دیکھ سکتے ہیں)۔اللہ اللہ کیا توکّل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپؐ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہوجانے کے آپؐ یہی فر ما تے ہیں کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے خدا تو ہمارے سا تھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟ کیا کسی ماں نے ایسا بچہ جنا ہے جو اس یقین اور ایمان کو لے کر دنیا میں آیا ہو۔یہ جرأت و بہادری کا سوال نہیں بلکہ توکّل کا سوال ہے۔خدا پر بھروسہ کا سوال ہے۔اگر جرأت ہی ہوتی توآپؐ یہ جواب دیتے کہ خیر پکڑلیں گے تو کیا ہوا ہم موت سے نہیں ڈرتے۔مگر آپؐ کو ئی معمولی جرنیل یا میدان جنگ کے بہادر سپا ہی نہ تھے۔آپؐ خدا کے رسول تھے اس لیے آپؐ نے نہ صرف خوف کا اظہار نہ کیا بلکہ حضرت ابوبکرؓ کو بتا یا کہ دیکھنے کا تو سوال ہی نہیں ہے خدا ہمارے سا تھ ہے اور اس کے حکم کے ماتحت ہم اپنے گھروں سے نکلے ہیں پھر ان کو طاقت ہی کہاں مل سکتی ہے کہ یہ آنکھ نیچی کر کے ہمیں دیکھیں۔یہ وہ توکّل ہے جو ایک جھوٹے انسان میں نہیں ہو سکتا۔جو ایک پر فریب دل میں نہیں ٹھہر سکتا۔شاید کو ئی مجنون ایسا کر سکے کہ ایسے خطرناک موقع پر بے پروا رہے۔لیکن میں پو چھتا ہوں کہ مجنون