انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 494

غار ہے جس میں دو تین آدمی اچھی طرح آرام کر سکتے ہیں اور بیٹھ تو اس سے زیا دہ سکتے ہیں۔جب کفّار نے دیکھا کہ آپؐ اپنے گھر میں موجود نہیں ہیں، باوجود پہرہ کے خدا کے فضل سے دشمنوں کے شر سے صحیح و سالم نکل گئے ہیں اور دشمن باوجود کمال ہو شیاری اور احتیاط کے خائب و خاسر ہو گئے تو انہوں نے کو شش کی کہ تعاقب کرکے آپؐ کو گرفتار کر لیں اور اپنے غضب کی آگ آپؐ پر برسائیں اور فوراً اِدھر اُدھر آدمی دوڑائے۔کچھ آدمی اپنے ساتھ ایک کھوجی لے کر چلے جس نے آپؐ کے قدموں کے نشانات کو معلوم کرکے جبلِ ثور کی طرف کا رخ کیا۔جب ثور پر پہنچے تو اس نے بڑے زور سے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ لوگ اس جگہ سے آگے نہیں گئے بلکہ پہاڑی پر موجود ہیں۔کھوجی عام طور سےہوشیار ہو تے ہیں اور گور نمنٹ اور محکمہ پو لیس والے ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھا تے ہیں او ریہ طریق انسان کی دریافت کر نے کا ایک بہت پرانا طریق ہے خصوصاً ان ممالک میں جہاں جرائم کی کثرت ہو اس طریق سے بہت کچھ کام لینا پڑتا ہے اس لیے غیرمہذب ممالک میں اور ایسے ممالک میں کہ جہاں کو ئی باقاعدہ حکومت نہ ہو اس فن کی بڑی قدروقیمت ہو تی ہے اور جہاں زیادہ ضرورت ہو وہاں اس فن کی ترقی بھی ہوجا تی ہے اس لیے عرب اور اس قسم کے دیگر ممالک میں جہاں رسول کریمؐ (فِداہُ ابی و امّی) سے پہلے کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی اور جرائم کی کثرت تھی یہ پیشہ بڑے زوروںپر تھااور نہایت قابل وثوق سمجھا جاتا تھا۔پس کھوجی کا یہ کہہ دینا کہ آپؐ ضرور یہاں تک آئے ہیں ایک بہت بڑا ثبوت تھا اور ایسی حالت میں غار کے اندر بیٹھے ہوؤں کاجو حال ہو نا چاہیے وہ سمجھ میں آسکتا ہے۔وہ کیسا وقت ہو گا جب رسول کریمؐ اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں بغیر سلاح وہتھیار کے غارِثور کے اندر بیٹھے ہوں گے اور دشمن سر پر کھڑا با تیں بنا رہا ہو گا۔غارِ ثور کو ئی چھوٹی سی غار نہیں جس کا منہ ایسا تنگ ہو کہ جس میں انسان کا گھسنا مشکل سمجھا جا ئے یا جس کے اندر جھانکنا مشکل ہو بلکہ ایک فراخ منہ کی کھلی غار ہے جس کے اندر جھانکنے سے آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کو ئی اندر بیٹھا ہے یا نہیں۔پس ایسی حالت میں دنیاوی اسباب کے لحاظ سے مشرکین مکہ کے لیے یہ بات بالکل قرین قیاس بلکہ ضروری تھی کہ وہ کھوجی کے کہنے کے مطابق ذرا آنکھیں جھکا کر دیکھ لیتے کہ آیا رسول کریم ؐ غار میں تو نہیں بیٹھے اور یہ کو ئی ایسا عظیم الشان کام نہ تھا کہ جسے وہ لا پر واہی سے چھوڑ دیتے کہ ایسے ضعیف خیال کی بناء پر اتنی محنت کون برداشت کرے۔پس ایسے انسانوں کا جو ایسے خطرہ کی