انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 493

انوار العلوم جلد ! ۴۹۳ ميرة النبي ال وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الْإِلْتِفَاتَ (بخارى كتاب المناقب باب هجرة النبي صلى الله عليه و سلم و اصحابه إلى المدينة، یعنی میں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریم کے اس قدر نزدیک ہو گیا کہ میں رسول کریم کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول کریم" دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے ہاں حضرت ابو بکر بار بار دیکھتے جاتے تھے۔ اور اللہ اللہ ! خدا تعالیٰ پر کیسا بھروسہ ہے۔ دشمن گھوڑا دوڑاتا ہوا اس قدر نزدیک آگیا ہے کہ آپ کی آواز اس تک پہنچ سکتی ہے اور آپ " تیر کی زد میں آگئے ہیں مگر آپ ہیں کہ گھبراہٹ کا محسوس کرنا تو الگ رہا قرآن شریف پڑھتے جاتے ہیں ادھر حضرت ابو بکر بار بار دیکھتے جاتے ہیں کہ اب دشمن کس قدر نزدیک پہنچ گیا ہے کیا اس بھروسہ اور توکل کی کوئی اور نظیر بھی مل سکتی ہے۔ کیا کوئی انسان ہے جس نے اس خطرناک وقت میں ایسی بے توجہی اور لاپرواہی کا اظہار کیا ہو ۔ اگر آپ کو دنیاوی اسباب کے استعمال کا خیال بھی ہوتا تو کم سے کم اتنا ضرور ہونا چاہئے تھا کہ آپ اس وقت یا تو سراقہ پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے یا وہاں سے تیز نکل جانے کی کوشش کرتے لیکن آپ نے ان دونوں باتوں میں سے ایک بھی نہیں اختیار کی نہ تو آپ تیز قدم ہوئے اور نہ ہی آپ نے یہ ارادہ کیا کہ کسی طرح سراقہ کو مار دیں بلکہ نہایت اطمینان کے ساتھ بغیر اظہار خوف و ہراس اپنی پہلی رفتار پر قرآن شریف پڑھتے ہوئے چلے گئے ۔ وہ کونسی چیز تھی جس نے اس وقت آپ کے دل کو ایسا مضبوط کر دیا۔ کونسی طاقت تھی جس نے آپ کے حوصلہ کو ایسا بلند کر دیا۔ کونسی روح تھی جس نے آپ کے اندر اس قسم کی غیر معمولی زندگی پیدا کر دی؟ یہ خدا پر توکل کے کرشمہ تھے اس پر بھروسہ کے نتائج تھے۔ آپ جانتے تھے کہ ظاہری اسباب میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ دنیا کی طاقتیں مجھے ہلاک نہیں کر سکتیں کیونکہ آسمان پر ایک خدا ہے جو مجھے ہے جو مجھے دیکھ رہا ہے جو ان سب اسباب کا پیدا کر نیوالا ہے پس خالق اسباب کے خلاف اسباب کچھ نہیں کر سکتے یہ تو کل آپ کا ضائع نہیں گیا بلکہ ! خدا نے اسے پورا کیا اور سراقہ جو دو سو اونٹ کے لالچ میں آیا تھا آپ سے معافی مانگ کر واپس چلا گیا اور خدا نے اس کے دل پر ایسار عب ڈالا کہ اس نے اپنی سلامتی اس میں سمجھی کہ خاموشی سے واپس چلا جائے بلکہ اس نے اور تعاقب کرنے والوں کو بھی واپس لوٹا دیا ۔ غار ثور کا ایک واقعہ جب رسول کریم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کو جائیں تو آپ اور حضرت ابو بکر ) ابو بکر ایک رات کو مکہ سے نکل کر جبل ثور کی طرف چلے گئے۔ یہ پہاڑ مکہ سے کوئی چھ سات میل پر واقع ہے۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر ایک