انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 491

اخلاص بِاللہ۔توکّل علی اللہ واقعہ ہجرتواقعہ ہجرت بھی ایک عجیب ہولناک واقعہ ہے۔سارا عرب مخالف اور خون کا پیاسا تھا مگر رسول کریمؐ صرف ایک ساتھی لے کر مدینہ کی طرف چل پڑے۔راستہ میں تمام وہ قومیں آباد تھیں جو مذہب کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو مارنےکی فکر میں رہتی تھیں اور صرف قریش کے ڈر کے مارے خاموش تھیں لیکن اب وہ وقت آگیا تھا کہ جب قریش خود آپ کے قتل کے درپے تھے اور کل قبائل عرب کو تسلی تھی کہ اگر ہم نے اس شخص کو قتل کر دیا تو قریش کو ناراضگی کی کو ئی وجہ نہ ہوگی۔اور صرف یہی نہیں کہ قریش کی مخالفت کا خوف نہ رہا تھا بلکہ قریش نے رسول کریم ﷺ کو مکہ سے غیر حاضر دیکھ کر آپ کے قتل پر انعام مقرر کر دیا تھا اور مدینہ کے راستہ میں جس قدر قبائل آباد تھے انہیں یہ اطلاع دے دی تھی کہ جو شخص رسول کریم ؐ اور حضرت ابوبکر ؓکو زندہ یا مردہ لے آئے گا اسے سو سو اونٹ فی کس انعام ملے گا۔عرب کے قبائل جن کی زندگی ہی لوٹ مار پر بسر ہو تی تھی اور جو آتشِ حسد سے پہلے ہی جل بھُن کر کو ئلہ ہو رہے تھےاس موقع کو کب ہاتھ سے جانے دے سکتے تھے ہر طرف آپؐ کی تلاش شروع ہوئی اور گو یا ہر قدم پر جو آپؐ اُٹھا تے خوف تھا کہ کسی خون کے پیا سے دشمن سے پا لا پڑے گا ایسے موقع پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہادر سے بہادر انسان بھی دل ہار بیٹھتا ہے اور آخری جدو جہد سے بھی محروم ہو جا تا ہے اور اگر نہایت دلیر اور خلاف معمول کو ئی نہایت قوی دل انسان بھی ہو تو اس پر بھی خوف ایسا مستولی ہو جا تا ہے کہ اس کی ہر ایک حرکت سے اس کا اظہار ہو تا ہے۔میں نے بڑے بڑے بہادروں کے واقعات پڑھےہیں لیکن ایسے موقع پر ان کی جو حالت ہو تی ہے اس کا رسول کریمؐ کے واقعہ سے مقابلہ بھی کر نا جائز نہیں ہوسکتا۔تاریخ دان جا نتے ہیں کہ بھاگتے ہو ئے نپولین کا کیا حال تھا اور اس کے چہرہ پر حسرت کے کیسے بیّن آثار پا ئے جا تے تھے وہ یہ بھی جا نتے ہیں کہ ہمایوں کس طرح با ربار اپنے آپ کو دشمن کے ہا تھو ںمیں سپرد کر دینے کے لیے تیار ہو جا تا تھا۔اور اگر اس کے سا تھ چند نہایت وفادار جرنیل نہ ہو تے تو وہ شاید ایسا کر بھی دیتا۔اسی طرح اَور بہت سے بڑے بہادر جرنیل گزرے ہیں جن پر مشکلات کے ایام آئے ہیں اور وہ ایسے اوقات میں جب دشمن ان کے چاروں طرف ان کی جستجو میں پھیل گیا گھبرا گئے ہیں لیکن رسول کریم ؐ ان دنیاوی لو گو ں میں سے نہ