انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 23

انوار العلوم جلد 1 ۲۳ محبت الهی کہ میرا خیال کسی اور طرف بٹ جائے لیکن پھر ایک غیبی طاقت کشاں کشاں مجھ کو اور میرے دل کو اور میری آنکھوں کو اسی طرف کھینچے لئے چلی جاتی ہے اور میں بے بسی اور بے کسی کے عالم میں پڑا رہ جاتا ہوں اور میری حالت اس وقت مردہ کی سی ہوتی ہے جس کو اس کے اقرباء نہلا دھلا کر اور ایک کفن میں لپیٹ کر کنج لحد میں جالٹاتے ہیں اور وہ بے چارہ اس قابل بھی نہیں ہوتا کہ ہاتھ بھی ہلا سکے ۔ یا ایک بے جان لکڑی کے ٹکڑے کی سی ہوتی ہے کہ اس کو کوئی اٹھا کر کہیں پھینک دیتا ہے تو کہیں کوئی ترکھان ایک تیز ہتھیار سے کاٹ کاٹ کر طرح طرح کی چیزیں بناتا اور اپنے دام کھرے کرتا ہے۔ وہ ہے کہ جانتی بھی نہیں کہ مجھ سے کیا کیا جا رہا ہے یا ایک کمزور عورت جو خلقی طور پر کمزور پیدا کی گئی ہے اس کو اٹھا کر تیز اور تند جلتی ہوئی آگ کی نذر کر دیتی ہے جہاں وہ ایک پل میں خاک کی ایک چٹکی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ ہاں خود محبت کرنے والا نہیں جانتا کہ یہ بہکی بہکی باتیں اور یہ بے بسی کے کام مجھ سے کون کرواتا ہے۔ اصل میں یہ قدرت کے سایہ تلے محبت کا زبردست ہاتھ ہی ہوتا ہے جو اس قدر طاقت اور قوت کے ساتھ زبردست سے زبردست دل کو موم سے زیادہ نرم اور دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیتا ہے ۔ بارہا دیکھا جاتا ہے کہ ایک سخت دل اور طاقتور جوان جو میدان جنگ کے خوفناک سین (نظارہ) سے ذرہ بھر بھی خوف زدہ نہیں ہوتا، جو قتل و خون کو ایک معمولی کھیل سے زیادہ نہیں سمجھتا اور جس کے خیال میں چمکتی ہوئی تلوار اور دل دہلا دینے والی گولی کی آواز ایک دل خوش کن نظارہ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی ۔ یکایک اس سے زیادہ سخت محبت کے ہاتھ میں پکڑا جاتا ہے اور ایسا خود رفتہ ہوتا ہے کہ اس کی پہلی بہادری اور جرأت ایک دم میں کافور ہو جاتی ہے۔ اور وہ جو کہ ایک فوج کے سر کو جھکا دیتا تھا اب ایک بچپن کے دوست اور تکلیف کے وقتوں کے غمگسار کے آگے اس طرح سر تسلیم خم کئے کھڑا ہوتا ہے گویا کہ اس کے کانوں نے شوخی اور بہادری اور جرأت کا نام ہی نہیں سنا۔ ایسا کون کرواتا ہے یہ محبت ہی تو ہے لیکن یہ محبت اس محبت سے زیادہ قوی ہے جو اس کو میدان جنگ میں کھڑا کرتی تھی۔ اس وقت اس کو ملک و دولت یا کسی اور چیز کی محبت تھی جو جنگ کی ترغیب دیتی تھی۔ لیکن اب وہ محبت ہے جو کہ ایک انسان کے حسن اخلاق اور دیگر احسانوں نے پیدا کر دی ہے۔ میرے خیال میں محبت کو اور چیزوں کے ساتھ تشبیہ دینے کے بجائے اگر آگ کے ساتھ تشبیہ دی جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ کیونکہ محبت اگر کسی چیز کے لئے حد سے بڑھنا شروع ہوتی ہے تو اس شخص کو کچھ ایسا محو کر دیتی ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے۔ بیشک غیر اللہ کیلئے ایسی محبت انسان کو خاک کر کے چھوڑتی ہے۔ لیکن یہ