انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 489

جواب دیا کہ بنی اسرائیل کی عادت تھی کہ جب ان میں کو ئی شریف چوری کر تا تو اسے چھوڑ دیتے مگر جب کو ئی غریب چوری کر تا تو اس کا ہاتھ قطع کر دیتے۔مگر میرا یہ حال ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تومیں اس کا بھی ہا تھ کاٹ دوں۔اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؐ کا خدا سے کیا تعلق تھا اور واقعی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں خلیفہ تھے کیونکہ خلیفہ اسی کو کہتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کو دنیا میں جاری کرے اور یہ رسول کریمؐ ہی تھے کہ جو بغیر کسی کے خوف ملامت کے حدود اللہ کا قیام کرتے اور کسی کی رعایت نہ کرتے۔رسول کریم ﷺ کے جو تعلقات اللہ تعالیٰ سےتھے اور جس طرح آپؐ نے خدا سے معاملہ صاف رکھاہؤا تھا اس پر یہ بات بھی روشنی ڈالتی ہے کہ آپؐ اپنے تمام کاموں میں پہلے یہ دیکھ لیتے کہ خدا تعالیٰ کا کیا حکم ہے اور جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے کو ئی حکم نہ ہو تا آپؐ کسی کام کے کرنے پر دلیری نہ کرتے۔چنانچہ مکّہ سے باوجود ہزاروں قسم کی تکالیف کے آپؐ نے ہجرت نہیں کی ہاں صحابہ ؓ کو حکم دے دیا کہ اگر وہ چاہیں تو ہجرت کر جائیں اور لوگوں کی شرارت کو دیکھ کر صحابہ ؓکو ہجرت کرنی بھی پڑی اور بہت سے صحابہ ؓ حبشہ کو اور کچھ مدینہ کو ہجرت کر گئے اور صرف حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت علی ؓ اور رسول کریمؐ یا اور چند صحابہ ؓمکہ میں با قی رہ گئے۔کفارمکہ کو دوسرے لوگوں کی نسبت رسول کریم ﷺ سے فطرتاً زیا دہ بغض وعداوت تھی کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ آپؐ ہی کی تعلیم کی وجہ سے لوگوں میںشرک کی مخالفت پھیلتی جا تی تھی۔وہ جانتے تھے کہ اگر وہ آپؐ کو قتل کر دیں تو با قی جماعت خود بخود پراگندہ ہوجائے گی اس لیے بہ نسبت دوسروں کے وہ آنحضرت ؐ کو زیا دہ دکھ دیتے اور چاہتے کہ کسی طرح آپؐ اپنے دعاوی سے باز آجائیں لیکن باوجود ان مشکلات کے آپؐ نے صحابہؓ کو تو ہجرت کا حکم دےدیا مگر خود ان دکھوں اور تکلیفوں کے با وجود مکہ سے ہجرت نہ کی کیوںکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کو ئی اذن نہ ہؤا تھا۔چنانچہ جب حضرت ابوبکر ؓنے پوچھا کہ میں ہجرت کر جا ؤں تو آپؐ نے جواب دیا۔عَلٰی رِسْلِکَ فَاِنِّیْ اَرْجُوْ اَنْ یُّؤْذَنَ لِیْ آپ ابھی ٹھہریں امید ہے کہ مجھےبھی اجازت مل جا ئے۔اللہ اللہ کیا پا ک انسان تھا۔دکھ پر دکھ تکالیف پر تکالیف پہنچ رہی ہیں سب ساتھیوں کو حکم دے دیتا ہے کہ جاؤ جس جگہ امن ہو چلے جاؤ لیکن خود اپنی جگہ سے نہیں ہلتا اور باوجود مخالفت کے اس بات کا منتظر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کو ئی حکم آئے تو میں اس پر کار بند ہوں۔کیا کسی انسان میں