انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 488

دکھ پہنچتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اب اس شخص سے جرم تو ہو ہی گیا ہے اور یہ تائب بھی ہے اسے چھوڑ دیا جا ئے تو اچھا ہے لیکن یہ ایک کمزوری ہے اگر اس جذبہ سے متاثر ہو کر مجرموں کو چھوڑ دیا جا ئے تو گناہ اور جرائم بہت ہی بڑھ جا ئیں۔فطری رحم کے علاوہ جب کسی بڑے آدمی سے جرم ہو تو لوگ عام طور پر نہیں پسند کر تے کہ اسے سزا ملے اور اس کی بڑائی سے متاثر ہو کر چاہتے ہیں کہ اسے کسی طرح چھوڑ دیا جا ئے بلکہ بڑے دولت مند یا کو ئی دنیاوی وجاہت رکھنے والے آدمی تو روپیہ اور اثر خرچ کرکے ایک ایسی جماعت اپنے ساتھ کر لیتے ہیں کہ جو مشکلات کے وقت ان کا ساتھ دیتی ہے اور باوجود قانون کی خلاف ورزی کے اپنے جتھے کی مدد سے اپنے جرائم کے اثر سے بچ جا تے ہیں۔آنحضرت ﷺکی غیرتِ دینیان قوموں میں جن کے اخلاق گر جا تے ہیں اور جن کے افراد میں طرح طرح کی بدیاں آجا تی ہیں ان میں خصوصًا یہ ر واج عام ہو جا تا ہے کہ بڑے لوگ قانون کے خلاف عمل کر کے بھی بچ جا تے ہیں اور صرف غرباءہی سزاپاتے ہیں۔رسول کریم ﷺاس بات کے سخت مخالف تھے اور آپؐ کا جو معاملہ خدا کے سا تھ تھا اور جس طرح آپؐ تمام بنی نوع انسان کے سا تھ یکساں سلوک کرنا چاہتے تھے اس کے لحاظ سے آپؐ کبھی پسند نہ کر تے تھے کہ احکام شریعت سے امراءکو مستثنیٰ کرکے غرباء ہی کو اس کا مکلّف سمجھا جا ئے بلکہ آپؐ باوجود ایک رحیم دل اور ہمدرد طبیعت رکھنے کے ہمیشہ احکام شریعت کے جا ری کر نے میں محتاط رہتے او رمجرمین کو سزا سے بچنے نہ دیتے اور جس طرح آپؐ غرباء کو سزا دیتے امراء بھی اسی طرح احکام شریعت کے ماتحت جکڑے جا تے اور اس معاملہ میں آپؐ بڑے غیور تھے۔حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہاَنَّ اِمْرَاَۃً مِّنْ بَنِیْ مَخزُوْ مٍ سَرَ قَتْ فَقَالُوْ امَنْ یُّکَلِّمُ فِیْھَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یَجْتَرِیْ اَحَدٌ اَنْ یُّکَلِمَہٗ فَکَلَّمَہٗ اُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ فَقَالَ اِنَّ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ کَانَ اِذَاسَرَقَ فِیْھِمُ الشَّرِیْفُ تَرَکُوْہُ وَاِذَاسَرَقَ الضَّعِیْفُ قَطَعُوْہُ لَوْکَانَتْ فَاطِمَۃُ لَقَطَعْتُ یَدَھَا(بخاری کتاب المناقب باب ذکر اسامہ بن زید)بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اس پر لوگوں نے چاہا کہ کون ہے جو رسول کریمؐ سے اس عورت کے معاملہ میں سفارش کرے لیکن کسی نے اس کی جرأت نہ کی(کیونکہ رسول کریمؐ حدود کے قائم کرنے میں بڑے سخت تھے) آخر اسامہ بن زید ؓ نے رسول کریم ؐ سے ذکر کیا مگر آپؐ نے