انوارالعلوم (جلد 1) — Page 486
انوار العلوم جلدا ۴۸۶ سيرة النبي میرے بعض عزیزوں نے کہا تم بھی اگر اپنی جو رو کے باب میں آنحضرت ا سے اجازت مانگو کہ وہ تمہاری خدمت کرتی رہے) تو مناسب ہے جیسے آنحضرت نے ہلال بن امیہ کی جو رد کو خدمت کی اجازت دی ( تم کو بھی اجازت دیں گے ) کعب نے کہا میں تو خدا کی قسم کبھی اس باب میں انحضرت ا سے اجازت نہیں مانگنے کا کیونکہ مجھ کو معلوم نہیں کہ آنحضرت ا کیا فرمائیں (اجازت دیں یا نہ دیں) میں جو ان آدمی ہوں (ہلال کی طرح ضعیف اور ناتواں نہیں ہوں) خیر اس کے بعد دس راتیں اور گزریں اب پچاس راتیں پوری ہو گئیں اس وقت سے جب سے آپ نے لوگوں کو ہم سے سلام کلام کی ممانعت فرمادی تھی۔ پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ کر اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا تو جیسے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أنْفُسُهُمْ (التوبه : (۱۸) میرا دل تنگ ہو رہا تھا اور زمین اتنی کشادہ ہونے پر بھی مجھ پر تنگ ہو گئی تھی۔ اتنے میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر چڑھ کر پکار رہا تھا (یہ ابو بکر صدیق رضی اللہ تھے) کعب بن مالک یا اللہ خوش ہو جا۔ یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھ کو یقین ہو گیا۔ اب میری مشکل دور ہوئی اور آنحضرت ا ا نے فجر کی نماز کے بعد لوگوں کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا قصور معاف کر دیا ۔ اب لوگ خوشخبری دینے میرے پاس اور میرے دونوں ساتھیوں (مرارہ اور ہلال) کے پاس جانے لگے ۔ ایک شخص (زبیر بن عوام بین الله ) گھوڑا کراتے ہوئے میرے پاس آئے اور قبیلے کا ایک شخص دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا (حمزہ بن عمرو اسلمی) اور پہاڑ پر کی آواز گھوڑے سے جلد مجھ کو پہنچ گئی۔ خیر جب یہ خوشخبری کی آواز مجھ کو پہنچی میں نے (خوشی میں آن کر) کیا کیا دو کپڑے جو میرے پاس تھے وہ اتار کر اس کو پہنا دیئے اس وقت کپڑوں کی قسم سے میرے پاس ہی دو کپڑے تھے اور میں نے ابو قتادہ ہی اللہ سے دو کپڑے مانگ کر پینے اور آنحضرت ا کے پاس چلا۔ رستے میں فوج در فوج لوگ مجھ سے ملتے جاتے تھے اور مجھ کو مبارکباد دیتے جاتے تھے اور کہتے تھے اللہ کی معافی تم کو مبارک ہو ۔ کعب کہتے ہیں جب میں مسجد میں پہنچا۔ دیکھا تو آنحضرت ا بیٹھے ہیں لوگ آپ کے گرد ہیں طلحہ بن عبید اللہ بنی اللہ مجھ کو دیکھ کر دوڑ کر اٹھے اور مصافحہ کیا۔ مبارکباد دی۔ خدا کی قسم مہاجرین میں سے اور کسی نے اٹھ کر مجھ کو مبارکباد نہیں دی۔ میں طلحہ بنی اللہ کا یہ احسان کبھی بھولنے والا نہیں ۔ کعب کہتے ہیں جب میں نے آنحضرت کو سلام کیا میں نے دیکھا آپ کا چہرہ خوشی سے جگمگا رہا تھا آپ نے فرمایا کعب وہ دن تجھ کو مبارک ہو جو ان سب دنوں سے بہتر ہے جب سے تیری ماں نے تجھ کو جنا۔ میں نے عرض