انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 482

انوار العلوم جلدا ۴۸۲ سيرة النبي قَالَ كَعْبٌ حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ فَقَامَ إِلَى طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يُهَرْوِلْ حَتَّى صَا فَحَنِي وَهَنَّا نِي وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَى رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ وَلَا أَنْسَا هَا لِطَلْحَةَ قَالَ كَعْبُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرَقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّ قَالَ قُلْتُ مِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ امْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سرا شتَنَا رَوَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةٌ قَمَرِ وَكُنَّا وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِلثَ مِنْهُ (بخاری کتاب المغازی باب حدیث کعب بن مالک ) حضرت کعب بن مالک بھی اللہ سے روایت ہے کہ میں رسول کریم ﷺ سے کسی لڑائی میں پیچھے نہیں رہا۔ سوائے غزوہ تبوک کے ہاں جنگ بدر میں پیچھے رہا تھا اور اس کی یہ وجہ تھی کہ آنحضرت قریش کے قافلہ کو مد نظر رکھ کر گئے تھے (کسی بڑی جنگ کی امید نہ تھی، مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں سے بغیر قبل از وقت تعین وقت و مقام کرنے کے لڑوا دیا ۔ ہاں میں لیلہ عقبہ میں موجود تھا۔ جب ہم نے اسلام پر قائم رہنے کا عہد کیا تھا اور مجھے جنگ بدر اس رات سے بڑھ کر محبوب نہیں کہ میں لوگوں میں ذکر کروں کہ میں بھی جنگ بدر میں شریک تھا گو کہ عوام میں جنگ بدر لیلہ عقبہ سے زیادہ ہی سمجھی جاتی ہے۔ خیر تبوک کے واقعہ کے وقت میرا یہ حال تھا کہ میں نسبتاً زیادہ مضبوط اور سامان والا تھا اور کسی جنگ کے وقت میرے پاس دو سواری کی اونٹنیاں اکٹھی نہیں ہو ئیں مگر اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں موجود تھیں۔ رسول کریم ال کی عادت تھی کہ جب جنگ کو جاتے تو اپنی منزل مقصود کو ظاہر نہ کرتے تھے لیکن اس دفعہ چونکہ گرمی سخت تھی اور سفر دور کا تھا اور راستہ میں غیر آباد جنگل تھے اور بہت سے دشمنوں سے پالا پڑنا تھا اس لئے آپ نے مسلمانوں کو خوب کھول کر بتا دیا تا کہ وہ جنگ کے لئے تیار ہو جائیں اور وہ طرف بھی بتادی جس طرف جانے کا ارادہ تھا۔ اس وقت مسلمان بہت ہو چکے تھے اور ان کا رجسٹر کوئی نہ تھا اس لئے جو لوگ اس لڑائی میں غیر حاضر رہنا چاہتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ جب تک رسول کریم کو وحی نہ ہو ان کا غیر حاضر رہنا مخفی ہی رہے گا اور موسم کا یہ حال تھا کہ میوہ پک چکا تھا اور سایہ بھلا معلوم ہوتا تھا۔ غرض کہ رسول کریم انے اور مسلمانوں نے جنگ کی تیاری شروع کی اور میں بھی ہر صبح جنگ کی تیاری کے مکمل کرنے کے لئے نکلتا تا میں بھی ان کے ساتھ تیار ہو جاؤں مگر پھر لوٹ آتا اور