انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 22

ہے جو دائمی ہے اور جو طاقت رکھتا ہے کہ اپنے چاہنے والے کو بدلہ دے اورجو ہمیشہ رہنے والا ہے اور جو کل صفات سے موصوف ہے بہ نسبت اس شخص کے جو محبت اس سے کرتا ہے جو آخر مرنے والا ہے تباہی ہر وقت اس کا انتظار کر رہی ہے اور اس وقت اس سے محبت کرنے والے کو سوائے تباہی بر بادی ،ذلت اور رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ہاں مگر اس شخص کوجو کسی دوسرے سے خدا کی رضا کے حاصل کرنے کے لئے محبت کرتا ہے گو کہ وہ فانی چیز ہے لیکن خدا کی رضا توفانی نہیں۔جب ایک شخص خدا کے رسول سے محبت کرتا ہے کہ اس کی بدولت میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کروں اور تاکہ خدا کی رضامیرے شامل حال ہو جائے اس محبت میں وہ روز بروز ترقی حاصل کرتا اور آخر کار سب رشتوں سے زیادہ وہ اس کو عزیز ہو جاتا ہے باپ بیٹا بھائی اوردو سرے عزیزوں کی محبت اس کے دل میں کہیں کم ہو تی ہے بہ نسبت اس محبت کے جو وہ خدا کےرسول سے کرتا ہے۔یہ محبت اگرچہ ایک انسان سے ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ خدا کی محبت بھی ترقی کرتی جاتی ہے اور جب ایک شخص اس غرض سے اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں اور بھائی سے محبت کرتا ہے کہ خدا کا علم ہے تو اس محبت کی تہہ میں بھی خدا کی ہی محبت ہوتی ہے۔قیامت کےدن ایسے شخص کے سر پر خدا کا سایہ ہو گا۔اور اس قادر مطلق مالک یوم الدین کی پیاری آواز اس شخص کے کان میں آئے گی اور اس وقت اس کو کیسی خوشی ہوگی جب وہ سنے گا کہ اے میرےبندے تو نے مجھ سے محبت کی اور میرے لئے تکلیفیں اٹھائیں تیرا چلنا پھرنا کھانا پینا اور جاگنا سونا سب میرے ہی لئے تھا۔تونے میری رضا کو اپنی رضاپر مقدم رکھا اور جن سے میں نے کہا تھا تو نے محبت کی اور جن کے تعلق سے میں ناراض تھا تو ان سے الگ رہا۔اس وقت کیسی خوشکن آواز اس کے کان میں پڑے گی،کہ فدخلی فی عبادی وادخلی جنتیاس وقت اس کو ان چند روزه تکالیف کے بدلے جو کہ اس نے خدا کے لئے برداشت کی ہوں گی دائمی بہشت ملے گا اور وہ ہمیشہ کیلئے اس محبت کا ثمرہ پالے گا جو اس نے خدا سے کی۔میں اس جگہ یہ بھی بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ محبت وہی نہیں کہ جو کسی انسان سے کی جائے یا کسی اور چیز سے کی جائے بلکہ میرے خیال میں ہر ایک کام میں جو انسان کرتا ہے اور ہر اک بات جس کو انسان ترک کرتا ہے اس کی محبت یا نفرت کی وجہ سے ہو تا ہے۔انسان اپنے پیدا ہونے کے وقت سے جتنے کام کرتا ہے سب محبت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔کیونکہ جب انسان کو کسی کام کی محبت نہ ہو تو وہ کیونکر اس کو کر سکتا ہے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ محبت کیونکر پیدا ہوتی ہے میرے خیال میں محبت حسن سے پیدا ہوتی ہے اور شاید سب دنیا اس کو قبول کرتی ہوگی۔اب خواه حسن صورت ہو خواہ حسن سیرت ہو اور خواہ حسن انجام ہو- حسن صورت اس طرح کہ انسان ایک چیز کو اس